پاک افغان بارڈر طورخم 15 ویں روز بھی دونوں اطراف سے تجارتی سرگرمیوں اور مسافروں کی آمد ورفت کیلئے بند رہا جس کے باعث دونوں ممالک کے تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور عوام کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر زاہد ھیواری نے کہا ہے کہ بارڈر کی بندش کے باعث دونوں اطراف کے تاجروں ، ٹرانسپورٹروں اور عوام کو بھاری نقصان بیچ رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان تقریبا ایک ارب ڈالر تک کی سالانہ تجارت ہوتی ہے، جبکہ روزانہ 70 سے 80 کروڑ روپے تک ملکی خزانے کو نقصان ہو رہا ہسر حد کی دونوں جانب ہزاروں مال بردار گاڑیاں پھنس چکی ہیں تاجروں کا کہنا ہے کہ سرحدی کشیدگی کے باعث تجارتی اشیا ضائع ہو رہی ہیں اور کئی کروڑ روپے مالیت کا سامان متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ تجارتی سرگرمیاں بحال ہوں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث 112اکتوبر سے تمام سرحدوں پر دوطرفہ تجارت معطل ہے، جس کے نتیجے میں اربوں روپے مالیت کی درآمدات اور برآمدات سمیت ٹرانزٹ ٹریڈ بھی مکمل طور پر بند ہوگئی ہے پاکستان سے چاول، سیمنٹ، ادویات طبیعی آلات ، کپڑا اور تازہ پھل افغانستان برآمد کیے جاتے
ہیں، جبکہ افغانستان سے کوئلہ، تازہ پھل ، سبزیاں، سوپ سٹون اور خشک میوہ جات پاکستان لائے جاتے ہیں۔