حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کی خرابی کا براہ راست فائدہ امریکہ اور بھارت کو ہو رہا ہے،سراج الحق Home / سیاست /

دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کی خرابی کا براہ راست فائدہ امریکہ اور بھارت کو ہو رہا ہے،سراج الحق

ایڈیٹر - 25/10/2025
دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کی خرابی کا براہ راست فائدہ امریکہ اور بھارت کو ہو رہا ہے،سراج الحق

تیمرگرہ (ڈسٹرکٹ رپورٹر) جماعت اسلامی کے سابق امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دیرپا، مستحکم اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں، حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے دونوں جانب سے سنجیدہ اور دانشمندانہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کی خرابی کا براہ راست فائدہ امریکہ اور بھارت کو ہو رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اسلام آباد اور کابل فوری طور پر غلط فہمیاں دور کر کے تعلقات معمول پر لائیں تاکہ بیرونی قوتوں کے عزائم ناکام بنائے جا سکیں۔


مقامی صحافی عبداللہ مدنی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ خیبر پختونخوا اس وقت مالی اور انتظامی بحران کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے صوبہ بغیر کابینہ کے صرف بیوروکریسی کے رحم و کرم پر ہے جو نہایت تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا چارسدہ میں کھڑے ہو کر ایک سیاسی جماعت کے صدر کے خلاف بیان بازی کرنا افسوسناک ہے، ایسے طرزِ عمل سے سیاسی عدم برداشت میں اضافہ اور ادارہ جاتی انحطاط کو فروغ ملتا ہے۔


سراج الحق نے مزید کہا کہ ملک بھر میں مہنگائی کا طوفان برپا ہے، عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، روٹی تیس روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ چینی، ٹماٹر اور دیگر اشیائے خوردونوش عوام کی دسترس سے باہر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے چاہییں۔


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان سے وزیراعلیٰ اور پارٹی قائدین کی ملاقات کا حق اخلاقی اور سیاسی دونوں لحاظ سے جائز ہے، انہیں اس ملاقات سے روکنا غیر جمہوری اور غیر اخلاقی طرزِ عمل ہے، ایسے اقدامات سے صوبے کے اندرونی مسائل میں اضافہ ہوگا۔


سراج الحق نے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے جس تیزی کے ساتھ جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کی، امید ہے وہ جلد دوبارہ جماعت میں شمولیت اختیار کریں گے۔
وزیراعظم کے حالیہ غیر ملکی دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ شرم الشیخ میں امریکی صدر کو سلوٹ کر کے نوبل انعام کا حقدار قرار دینا مضحکہ خیز اور افسوسناک ہے۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا انعام دیا جا سکتا ہے تو پھر ہلاکو خان، چنگیز خان اور یزید بھی اس کے مستحق قرار پائیں گے۔ ہزاروں فلسطینیوں کے خون سے لتھڑے ہاتھ رکھنے والے شخص کو امن کا علمبردار کہنا تاریخ اور انسانیت کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کیے بغیر خطے میں امن و استحکام ممکن نہیں۔ دونوں ممالک کو باہمی رابطے بڑھا کر بیرونی سازشوں کا سدباب کرنا چاہیے تاکہ امت مسلمہ کے مفادات کا دفاع کیا جا سکے