محمد بلال یاسر
افغانستان میں پھنسے تقریباً 5 ہزار پاکستانی شہری وطن واپسی کے منتظر ہیں، جبکہ بابِ دوستی پر تجارتی سرگرمیاں 11ویں روز بھی معطل ہیں۔ سرحد کی بندش کے باعث دونوں جانب شہری مشکلات کا شکار ہیں۔
چمن میں کسٹم حکام کے مطابق، بابِ دوستی کے دونوں طرف ویزہ اور پاسپورٹ پر سفر کرنے والے سینکڑوں افراد سرحدی بندش کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔ تاہم، افغان باشندوں کو منتقل کرنے کے بعد واپس آنے والی گاڑیوں کو محدود اجازت دے دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر پر بھی دوطرفہ تجارت بند ہے، جس کے باعث ہزاروں کارگو گاڑیاں سیمنٹ، ادویات، کپڑا، تازہ پھل اور سبزیاں سمیت لاکھوں روپے کا سامان لے کر کھڑی ہیں۔ تجارتی سرگرمیوں کی معطلی سے تاجروں اور ڈرائیوروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
اسی طرح جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ، شمالی وزیرستان میں غلام خان اور ضلع کرم میں خرلاچی سرحد بھی بدستور بند ہیں۔ سرحدوں کی بندش سے نہ صرف اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ روزانہ مزدوری کے لیے افغانستان جانے والے سینکڑوں مزدور بھی بے روزگاری کے بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق، پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا عمل جاری ہے، تاہم ابھی تک بابِ دوستی اور دیگر گزرگاہوں کے کھولنے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔