رحمت اللہ سواتی
دنیا بھر میں ذہنی مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہیں۔ ورلڈ فیڈریشن فار منٹل ہیلتھ کے مطابق تقریباً 100 کروڑ لوگ ذہنی امراض کا شکار ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ذہنی امراض کے حوالے سے عوام اور مریضوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ذہنی بیماریوں کی بروقت تشخیص ہوجائے تو اس کا علاج بھی ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار تیمرگرہ ٹیچنگ ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر سمیع الحق ماہر امراض نفسیات، ڈاکٹر اعزاز جمال اسسٹنٹ پروفیسرباچا خان میڈیکل کمپلیکس مردان، ڈاکٹر اکبر خان اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ سائیکاٹرسٹ سپشلسٹ تیمرگرہ ٹیچنگ ہسپتال، ڈاکٹر سعید خان اسسٹنٹ پروفیسر سائیکاٹرسٹ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور، ڈاکٹر منور خان نیو رو فزیشن، اور ڈاکٹر افتخار احمد سائیکاٹرسٹ نے تیمرگرہ ڈاکٹر ہسپتال میں جینیٹکس فارما کے تعاون سے عالمی مینٹل ڈے کے مناسبت کے حوالے سے منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان میں ذہنی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 20تا 25فیصد افراد ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں میں مبتلاہیں۔ ذہنی امراض کے اسباب میں مہنگائی، بے روزگاری، زلزلہ، سیلاب سمیت قدرتی آفات، کاروبار میں نقصان، گھریلوں ناچاقی وغیرہ شامل ہیں اور بعض اوقات ذہنی مریض خودکشی کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ذہنی مریضوں کی بروقت علاج کروانا ضروری ہے اور مستند ڈاکٹروں سے علاج کروانا چاہئے۔ مرگی کی بیماری بھی قابل علاج ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ تیمرگرہ ٹیچنگ ہسپتال میں سائیکاٹری وارڈ نہیں ہے اس لئے صوبائی حکومت تیمرگرہ ٹیچنگ ہسپتال میں سائیکاٹری وارڈ قائم کرے۔