رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا غصہ یہ ہی ہے کہ کے پی کے میں ان کا وزیر اعلی نہیں لایا گیا، نئے وزیر اعلی خیبر پختو نخوا کیلئے بڑے چیلنجز ہیں، ایک انٹرویو میں شیر افضل مروت نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو باور کرایا گیا تھا کہ جے یو آئی ف کا وز یر اعلی لایا جائے گا، جے یو آئی ف کے وزیر اعلی کیلئے ارکان پورے کرنے تھے، شیر افضل مروت نے کہا کہ 12، 13 دن تک اجلاس نہیں ہوتا تھا تا کہ نمبر پورے کر لئے جائیں، پی ٹی آئی نے الگ اسٹریٹی اپنائی اور تمام ایم پی ایز کو ایک ہی جگہ پر رکھا۔ انھوں نے کہا کہ کسی ایم پی اے کو جانے نہیں دیا گیا تا کہ ممبران کو جانے نہ دیا جائے ، نئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کیلئے بڑے چیلنجز ہیں۔ سابق پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ نئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی بانی سے ملاقات کرا دی جاتی تو اچھا تاثر جاتا سہیل آفریدی کے وزیر اعلی کے پی کا حلف لینے سے پہلے ہی ان پر الزامات لگا دیئے گئے۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ سہیل آفریدی علی امین گنڈا پور کا حشر دیکھ چکے ہیں، پی ٹی آئی کی پاپولر ڈیمانڈ وہی ہیں کہ جو مجمع کہہ رہا ہے اسی سمت میں جائیں