پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار تجارت اور آمد و رفت چوتھے روز بھی معطل رہی۔ طورخم اور دیگر اہم سرحدی گزرگاہیں افغان سکیورٹی فورسز کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد بند کر دی گئیں، جس کے نتیجے میں دونوں جانب تاجروں کو شدید مالی نقصان اور مشکلات کا سامنا ہے کلئیر نگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر مجیب شنواری کے مطابق طورخم بارڈر جو پاک افغان تجارت کے مصروف ترین مراکز میں سے ایک ہے، تاہم وہاں بندش کے باعث کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو چکا ہے۔ طورخم کے علاوہ ضلع خیبر میں واقع چمن، جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ ، شمالی وزیرستان میں غلام خان اور کرم میں خرلاچی کے راستے بھی بند ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ درجنوں مال بردار ٹرک سرحد پر بھنے ہوئے ہیں ذرائع کے مطابق مارچ میں بھی اسی نوعیت کی کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کی افواج کے مابین فائرنگ سے چھ اہلکار اور دو شہری جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ کئی مکانات، مساجد اور دفاتر کو نقصان پہنچا تھا ذ رائع کے مطابق طورخم کی بندش کے باعث روزانہ تقریبا 15لاکھ ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے، طورخم حکام کا کہنا ہے کہ گزرگاہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک دونوں ممالک کے درمیان رابطے بحال نہیں ہو جاتے اور سیکیورٹی صورتحال بہتر نہیں ہو جاتی۔ دوسری جانب ہزاروں مسافر جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں، طورخم پر پھنسے ہوئے ہیں اور راستہ کھلنے کے منتظر ہیں، ذرائع کے مطابق اعلی سطحی حکومتی رابطے صورتحال کو معمول پر لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں تا ہم تا حال یہ واضح نہیں کہ طور غم گزرگاہ کب دوبارہ کھولی جائے گی۔