لاہور کے ایکسپوسینٹر میں فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے کا نفرنس اختتام پذیر ہو گئی ، جس سے خطاب کے دوران عالمی ادارہ صحت ڈبلیوا بیچ اور (کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر دانگ لو نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 2لاکھ 56 ہزارافراد فضائی آلودگی کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ کانفرنس کا انعقاد اس مقصد کے ساتھ کیا گیا کہ قابل عمل حل پر روشنی ڈالنے کے ساتھ اعلی سطح کے مکالمے کو فروغ اور پاکستان میں صاف فضا کے لیے اجتماعی اقدامات کو آگے بڑھایا جا سکے، کانفرنس کے سیشنز میں مختلف موضوعات پر گفتگو کی گئی، جن میں حکمرانی اور پالیسی فریم ورک، صاف فضا کے لیے مالی معاونت، اسموگ اور صنعتی ذمہ داری، عدالتی معاملات، عوامی صحت پر اثرات، قومی سطح پر فضائی معیار کے معیارات اور سرحد پار آلودگی پر علاقائی تعاون شامل تھے۔ قبل ازیں کا نفرنس سے خطاب کرتے ہو ئیما ہر ماحولیات داور بٹ نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے شروع کیے گئے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آلودگی کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فضائی آلودگی کا مسئلہ 2012 میں دوبارہ شدت اختیار کرنے لگا، جب ملک میں قدرتی گیس کی فراہمی ختم ہوگئی۔ ڈائر یکٹر لمز انرجی انسٹیٹیوٹ لمز انرجی انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹرنوید ارشد سے پوچھا گیا کہ ادارے بڑے شعبوں سے متعلق پالیسی سازی کو کیسے آگاہ کر رہے ہیں؟ ڈاکٹر نوید ارشد نے کہا کہ لمز انرجی انسٹیٹیوٹ مکمل انرجی ایکو سسٹم کا جائزہ لیتا ہے اور حکومت کے پاس پالیسی سفارشات لے جانے سے پہلے اسے ملک کو در پیش چیلنجز کے ساتھ منسلک کرتا ہے۔