باجوڑ ماڈل اسکول اینڈ کالج (گورنر ماڈل) میں یومِ والدین کی شاندار تقریب
طلباء کے خاکے، اساتذہ کے خطابات اور تعلیمی نکات پر زور
باجوڑ – باجوڑ ماڈل اسکول اینڈ کالج (گورنر ماڈل) خار میں یومِ والدین کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلباء نے مزاحیہ و سبق آموز خاکے، ملی نغمے اور دیگر رنگا رنگ پروگرامز پیش کیے۔ تقریب میں والدین، اساتذہ اور علاقے کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل گورنر ماڈل اسکول حاجی نظیر ملاخیل، پرنسپل خار ماڈل سکول خیال محمد، فضل اکبر خلجی، لیاقت علی خان اور دیگر مقررین نے کہا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت صرف اساتذہ کی نہیں بلکہ والدین کی شراکت داری سے مکمل ہوتی ہے۔ خیال محمد نے کہا، "ہم کسی پر احسان نہیں کر رہے بلکہ یہ والدین کا ہم پر احسان ہے کہ وہ ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم کا ذمہ سونپتے ہیں۔"
مقررین نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ موبائل فون، کرکٹ اور محض امیدوں پر گزارا کرنے سے ان کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کام اور پھر آرام کی پالیسی اپنائی جائے۔ "قبائلی بچوں جیسا ٹیلنٹ پورے پاکستان میں کم ہی نظر آتا ہے،" مقررین نے کہا اور تجویز دی کہ ایف ایس سی کے بعد ٹیکنالوجی کا استعمال محدود کر دیا جائے تاکہ طلباء اپنی توجہ تعلیم پر مرکوز رکھ سکیں۔
تقریب میں اساتذہ کی تعیناتی کے نظام پر بھی گفتگو ہوئی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ڈیپوٹیشن پر آنے والے پرنسپلز کے سروں پر ہر وقت معطلی کی تلوار لٹکتی رہتی ہے، جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم دس سال کا وقت دیا جائے تاکہ پرنسپلز یکسوئی سے تعلیمی بہتری کے لیے کام کر سکیں۔
لیاقت علی خان نے اپنے خطاب میں کہا، "آج کا کام کل پر نہ چھوڑیں، کیونکہ کل کا کسی کو علم نہیں۔" ان کا کہنا تھا کہ محنت، وقت کی قدر اور لگن ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
تقریب کے اختتام پر مہمانانِ گرامی نے طلباء کی کارکردگی کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ادارہ مستقبل میں بھی تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دیتا رہے گا۔تقریب کے اختتام پر طلباء میں نقد انعامات اور شیلڈز تقسیم کئے گئے ۔