باجوڑ کے زیتون! جنگلی درختوں سے زرعی خزانے تک کا سفر۔قبائلی ضلع باجوڑ، جو اپنی دلکش وادیوں، بلند و بالا پہاڑوں اور محنتی کسانوں کے لیے مشہور ہے، آج ایک نئے زرعی باب میں داخل ہو رہا ہے۔ یہاں کی زمین اور آب و ہوا قدرتی طور پر ایسی ہے جو زیتون کی کاشت کے لیے نہایت موزوں سمجھی جاتی ہے۔ صدیوں سے جنگلی زیتون کے درخت تو اس خطے کا حصہ تھے، مگر اب حکومتی سرپرستی اور مقامی کسانوں کی محنت نے ان درختوں کو ایک معاشی خزانے میں بدلنا شروع کر دیا ہے۔ یہ صرف کھیتی باڑی نہیں بلکہ ترقی، خودکفالت اور خوشحالی کا ایک ایسا سفر ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشنی کی کرن ثابت ہوگا۔محکمہ زراعت خیبرپختونخوا کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق باجوڑ میں تقریباً گیارہ ملین جنگلی زیتون کے پودے موجود ہیں۔ ان ہی درختوں پر قلم کاری کے ذریعے انہیں پھل دار اور معیاری زیتون کے باغات میں بدلا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر زراعت میجر (ر) سجاد بارکوال، سیکرٹری زراعت عمبر علی، ڈائریکٹر جنرل مراد علی خان ,ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی خان اور ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سبحان الدین کی کوششوں سے اب تک سات لاکھ پچاس ہزار جنگلی پودوں پر قلم کاری کی جا چکی ہے۔یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ کامیابی کی ایک عملی تصویر ہے۔ اب تک ان درختوں سے 71000 کلوگرام زیتون حاصل ہوا، جس سے 7100 لیٹر اعلیٰ معیار کا زیتون کا تیل نکالا گیا۔ محکمہ زراعت کے مطابق پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب باقاعدگی سے ہر سال 35000 کلوگرام پھل حاصل ہو رہا ہے، جس سے تقریباً 3500 لیٹر خالص تیل پیدا کیا جاتا ہے۔ایک وقت تھا جب مقامی کسانوں کو زیتون کے پھل پشاور یا دیگر شہروں تک لے جانا پڑتا تھا۔ اس سفر میں وقت، پیسہ اور محنت سب کچھ صرف ہوتا مگر منافع کم ملتا۔ آج صورتحال بدل گئی ہے۔ محکمہ زراعت نے باجوڑ ہی میں زیتون کے تیل نکالنے کی تین جدید مشینیں فراہم کر دی ہیں۔ اب کاشتکار اپنے علاقے میں ہی پھل کو تیل میں بدل سکتے ہیں۔ یہ سہولت نہ صرف اخراجات کو کم کر رہی ہے بلکہ مقامی معیشت کو بھی براہِ راست فائدہ پہنچا رہی ہے۔ کسان اپنی محنت کے پھل کو موقع پر دیکھتے ہیں اور بہتر آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت باجوڑ، ڈاکٹر سبحان الدین نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باجوڑ کی سرزمین زیتون کی پیداوار کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ یہاں کی مٹی اور موسم زیتون کے لیے مثالی حیثیت رکھتے ہیں۔ دیگر علاقوں کی نسبت باجوڑ میں زیتون کی پیداوار کی شرح بھی زیادہ ہے اور معیار کے اعتبار سے بھی باجوڑ کا زیتون سب سے بہتر ہے۔"محکمہ زراعت کے مطابق رواں سال محکمہ زراعت نے اے ڈی پی سکیم کے تحت مزید ایک لاکھ جنگلی پودوں پر قلم کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔ فی الحال تحصیل سلارزئی اور برنگ میں یہ کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زیتون کے باقاعدہ باغات بھی لگائے جا رہے ہیں۔ اب تک 950 ایکڑ زمین پر معیاری باغات قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ رواں سال مزید 196 ایکڑ پر باغات لگائے جائیں گے ۔ یہ وسعت زیتون کو صرف ایک زرعی تجربہ نہیں بلکہ ایک بڑے تجارتی منصوبے میں بدل رہی ہے۔باجوڑ میں زیتون کی وہ اقسام کاشت کی جا رہی ہیں جنہیں دنیا بھر میں معیار اور ذائقے کے اعتبار سے ممتاز مقام حاصل ہے۔ ان میں Arbiquina، Coratina اور Leccina شامل ہیں۔ یہ اقسام زیادہ پھل دینے والی، تیل کے معیار میں بہترین اور مارکیٹ میں زیادہ مانگ رکھنے والی ہیں۔ ان کی موجودگی باجوڑ کے زیتون کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان دلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔زیتون کی یہ مہم کسانوں کے لیے ایک خواب کی تعبیر ہے۔ یہ مہم صرف زمین کو سرسبز نہیں بنا رہی بلکہ روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہے، معیشت کو مضبوط بنا رہی ہے اور زمینداروں کے گھروں میں خوشحالی کی نئی کرنیں جگا رہی ہے۔ پہاڑی علاقے جہاں روایتی فصلوں کی کاشت محدود ہے، وہاں زیتون نے نئی زندگی پھونک دی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آئندہ چند برسوں میں باجوڑ پورے صوبے میں زیتون کی پیداوار کا مرکز بن سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف مقامی کسان خوشحال ہوں گے بلکہ پاکستان کو درآمدی تیل پر انحصار کم کرنا اور زرمبادلہ بچانا بھی ممکن ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر زیتون کی صنعت کو وسعت دی گئی تو یہاں چھوٹے کارخانے، پیکنگ پلانٹس اور ایکسپورٹ کے مواقع پیدا ہوں گے جو مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھولیں گے۔باجوڑ کے کسانوں کی آنکھوں میں اب ایک نیا خواب جھلملاتا ہے ۔ وہ خواب جس میں زیتون کے باغات وادیوں کو سبز پوشاک پہنا رہے ہیں، گھروں میں خوشحالی آ رہی ہے اور دنیا باجوڑ کے زیتون کو معیار کی علامت سمجھ رہی ہے۔ یہ آغاز ہے ایک ایسی داستان کا جس کے ہر باب میں ترقی، امن اور خوشحالی کے نقوش ثبت ہیں۔ زیتون کے یہ درخت صرف آج کا سہارا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی امید، سرمایہ اور فخر کی علامت ہیں۔