تعلیمی اداروں کے آوٹ سورس ہونے کے حوالے سے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں طلبہ اور اساتذہ سڑکوں پر آ گئے، طلبہ کی جانب سے خیبرپختونخوا میں تعلیم بچاو مہم زوروں پر ہے جس میں انہوں نے حکومت کی جانب سے آوٹ سورس پالیسی مسترد کر کے اسے کمزور معاشی حالت والے طلبہ کے ساتھ زیادتی قرار دیدیا۔
ہری پور کے کالجز میں تیسرے روز بھی احتجاج، کلاسز کا بائیکاٹ
ضلع ہری پور میں تعلیمی اداروں کو آؤٹ آف سورس کرنے کے خلاف شدید احتجاج کیا جا رہا ہے، ضلع بھر کے کالجز میں تیسرے روز بھی حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج جاری ہے، اس دوران سٹاف اور طالبات کی جانب سے کلاسوں کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا،
گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج ہری پور۔گورنمنٹ زبیدہ امان ڈگری گرلز کالج غازی، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج سرائے صالح، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج پھرھالہ، گورنمنٹ گرلز کالج خانپور، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج2 سمیت دیگر کالجز میں احتجاج جاری ہے۔
تمام گرلز کالجز میں تمام سٹاف ممبرز طلبات سمیت ایڈمنسٹریشن اورکلاس کلاس فور چوکیداروں نے بھی آؤٹ سورس کرنے کے خلاف احتجاج کیا، ضلع بھرکے گرلز کالجز کی پروفیسرز نے حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی نجکاری اور آوٹ سورس پالیسی مسترد کرتے ہوئے اس ٹھیکیداری سسٹم کے خلاف احتجاج کیا۔
احتجاج میں مقررین نے تعلیمی شعبہ صحت کے شعبہ کے بجائے ملکی معیشت پر بوجھ اداروں کی نجکاری کرنے پر زور دیاگیا، مظاہرین نے آئی ایم ایف کا ایجنڈا ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی تعلیمی اداروں کی بجائے دیگر اداروں کو آؤٹ سورس کرے، تعلیمی ادارے آوٹ سورس کرنے سے صرف متوسط اور غریب گھرانوں کے طلبہ کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔
اس صورتحال میں ضلع بھرکے گرلز کالجز ، تمام سٹاف طلبات اور ایڈمنسٹریشن نے تاحکم ثانی احتجاج کا اعلان کیا ہے، مظاہرین نے کہا کہ حکومت اپنا فیصلہ واپس لے اور تعلیمی اداروں کے خلاف اقدامات سے باز رہے، حکومت کی جانب سے فیصلہ واپس لینے تک ہمارا احتجاج کلاسوں سے بائیکاٹ جاری رہے گا۔
چارسدہ میں تعلیم بچاؤ مہم جاری، طلبہ کی بھرپور شرکت
ضلع چارسدہ میں بھی تعلیمی اداروں کی آوٹ سورس پالیسی مسترد کرتے ہوئے طلبہ نے بھرپور احتجاج کیا، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چارسدہ سمیت ضلع بھر کے کالجز کے طلباء کی جانب سے تعلیم بچاؤ ریلی نکالی گئی، مقررین نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی نجکاری اور ٹھیکیداری نظام کی بھرپور مزاحمت کریں گے ، اس فیصلے کی واپسی تک کلاسوں کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔
مظاہرین نے کہا کہ صوبائی حکومت نجکاری کی اڑ میں غریب طلباء پر تعلیم کے دروازے بند کررہی ہے، تعلیمی ایمرجنسی کے دعویدار حکومت تعلیم کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے، ان کی اس قسم کی پالیسیاں طلبہ کے ساتھ ظلم اور ناانصافی ہے۔
مالاکنڈ کے طلبہ کا حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
ضلع مالاکنڈ میں بھی طلبہ نے اساتذہ اور لیکچررز سمیت سڑکوں پر حکومتی پالیسی کیخلاف شدید احتجاج کیا، اور اس دوران تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف طلبہ نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر حکومت یہ فیصلہ واپس لے، اس فیصلہ سے کمزور مالی حالت والے طلبہ پر تعلیم کے دروازے بند ہو جائیں گے، جو ان سے ان کا حق چھیننے کے مترادف ہے۔
احتجاج کرتے ہوئے طلبہ نے تھانہ کے مقام پر جی ٹی روڈ ہر قسم ٹریفک کیلئے بلاک کر دی، جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، طلبہ نے کہا کہ کسی بھی صورت نجکاری کی اجازت نہیں دینگے۔