پشاور (یاسین ظہور) وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی قبضہ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ پشاور فرمان غنی کی خصوصی ہدایت پر اور ڈپٹی کمشنر پشاور کے تعاون سے ریلوے محکمہ لینڈ نے ہشتنگری پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک کے اطراف قائم 55 غیرقانونی دکانیں بھاری مشینری کی مدد سے مسمار کر دیں۔
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ شاہ نواز خان اسسٹنٹ کمشنر پشاور آئی او ڈبلیو عمران، اور لینڈ انسپکٹر ماجد خان کی زیر نگرانی اینٹی انکروچمنٹ آپریشن کیا گیا آپریشن کے دوران ریلوے کی 1 کنال 10 مرلہ کمرشل زمین واگزار کرائی گئی، جس کی مالیت تقریباً 10 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے۔
واضح رہے کہ یہ دکانیں کافی عرصے سے ریلوے کی سرکاری زمین پر غیرقانونی طور پر تعمیر کی گئی تھیں۔ ریلوے انتظامیہ کی جانب سے متعدد بار نوٹسز جاری کیے گئے، تاہم قابضین نے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے ان کی اپیلیں خارج کر دیں جس پر ریلوے اانتظامیہ نے ضلعی انتظامیہ پشاور کے تعاون سے اینٹی انکروچمنٹ آپریشن عمل میں لایا گیا۔
ڈی ایس پشاور فرمان غنی کے مطابق وزیر ریلوے کی ہدایات کی روشنی میں سرکاری زمینوں پر قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اینٹی انکروچمنٹ آپریشن کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ریلوے پولیس کے اہلکار بھی تعینات تھے۔