حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آئی ایم ایف کا جائزہ مشن دوسرے اقتصادی جائزے کیلئے 25 ستمبر کو پاکستان پہنچے گا Home / بین الاقوامی /

آئی ایم ایف کا جائزہ مشن دوسرے اقتصادی جائزے کیلئے 25 ستمبر کو پاکستان پہنچے گا

ایڈیٹر - 17/09/2025
آئی ایم ایف کا جائزہ مشن دوسرے اقتصادی جائزے کیلئے 25 ستمبر کو پاکستان پہنچے گا

آئی ایم ایف کا جائزہ مشن دوسرے اقتصادی جائزے کیلئے 25 ستمبر کو پاکستان پہنچے گا، پاکستان 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت اب تک عالمی ادارے کی 51 اہم شرائط میں سے زیادہ تر پوری کرچکا۔ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کے قرض کی اگلی قسط لینے کے مشن میں اہم پیشرفت ہوگئی، پاکستان نے 51 شرائط  میں سے زیادہ تر پوری کردیں، کچھ پر کام جاری ہے۔

دستاویز کے مطابق ششماہی بنیاد پر گیس ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی شرط پر عمل کیا جاچکا، نئی ٹیکس چھوٹ یا استثنیٰ نہ دینے کی شرط بھی پوری کردی گئی، آئی ایم ایف کی اجازت سے چینی کی سرکاری درآمد پر ٹیکس چھوٹ دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 2035ء تک خصوصی اقتصادی زونز پر مراعات ختم کرنے کی شرط پر عمل کیا جارہا ہے، ایف بی آر تاجر دوست اسکیم کے تحت 50 ارب روپے ٹیکس جمع کرنے میں ناکام ہوگیا جبکہ 10 حکومتی ملکیتی اداروں کے قوانین میں ترمیم کا ہدف بھی پورا نہ ہوسکا۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ وفاق اور صوبوں میں فزسکل پیکٹ کی شرط  پرعمل کیا جاچکا، آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہی بجٹ 26-2025 پاس کیا گیا، بجٹ سے ہٹ کر اخراجات کی پارلیمنٹ سے منظوری کی شرط بھی پوری، ڈسکوز اور جینکوز کی نجکاری کیلئے پالیسی اقدامات پر کام جاری ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری اداروں میں حکومتی عمل دخل میں کمی کی شرط میں پیشرفت ہوئی ہے، زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کیلئے قانون سازی کی شرط  پر تاخیر سے عمل ہوا، اسلام آباد، کراچی، لاہور میں کمپلائنس رسک مینجمنٹ سسٹم  نافذ کیا گیا، پی ایس ڈی پی منصوبوں کیلئے بہتر پبلک انویسٹمنٹ منیجمنٹ پر جزوی عملدرآمد ہوا ہے۔

دستاویز کے مطابق اعلیٰ سرکاری حکام کے اثاثے ظاہر کرنے سے متعلق قانون سازی میں پیشرفت ہوگئی، کفالت پروگرام کے تحت مہنگائی تناسب سے غیر مشروط  کیش ٹرانسفر کی شرط پوری ہوگئی، انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ کے درمیان 1.25 فیصد ایوریج پریمئمم پر بھی عمل ہوگیا، گورننس اینڈ کرپشن اسیسمنٹ رپورٹ کی اشاعت سمیت بعض شرائط پوری نہ ہوسکیں۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے پہلے جولائی اور پھر اگست 2025 کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی، گورننس اینڈ کرپشن اسیسمنٹ پر ایکشن پلان کی شرط نہ پوری ہونے کا امکان ہے، صوبائی حکومتیں 1.2 ٹریلین کیش سرپلس کا ہدف پورا کرنے میں ناکام رہیں، ایف بی آر گزشتہ سال 12.3 ٹریلین روپے کا ٹیکس ہدف بھی پورا نہ کرسکا، جولائی تا جون 25-2024ء کے دوران 11.74 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا۔