پشاور: حکومت خیبر پختونخوا کے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے صوبے کے امن و امان کے لحاظ سے شدید حساس اور دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع میں فرائض انجام دینے والے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) اور پولیس سروس آف پاکستان (PSP) کے افسران کے لیے ایک تاریخی اور غیر معمولی پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی کابینہ کی سرکولیشن کے ذریعے دی گئی منظوری اور وفاقی حکومت (اسٹیبلشمنٹ ڈویژن) کی ہدایات کی روشنی میں "خیبر پختونخوا ایکسٹرا آرڈینری لا اینڈ آرڈر اینڈ سیکیورٹی رسک الاؤنس" باقاعدہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے。
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اس خصوصی الاؤنس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہو چکا ہے۔ یہ الاؤنس افسران کی رننگ بیسک پے (جاری بنیادی تنخواہ) کے 250 فیصد کے مساوی ہوگا، جو موجودہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے ادا کیا جائے گا。 اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے صوبے کے جن مخصوص اضلاع میں تعینات افسران کو اس کا مستحق قرار دیا گیا ہے، ان میں پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ، مہمند، کوہاٹ، ہنگو، کرک، کرم، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بالائی دیر، زیریں دیر، سوات، بونیر، شانگلہ، باجوڑ، مالاکنڈ، چترال، اپر چترال اور پورا ہزارہ ڈویژن (بشمول ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، بٹگرام، تورغر، کولئی پالس) شامل ہیں، جبکہ اپر کوہستان اور لوئر کوہستان کو اس الاؤنس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ خزانہ کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اس الاؤنس پر اٹھنے والے تمام مالی اخراجات بالآخر وفاقی حکومت برداشت کرے گی، تاہم صوبائی حکومت ابتدائی طور پر عارضی برج فنانسنگ کے تحت فنڈز فراہم کر رہی ہے جو بعد میں وفاق سے ری فنڈ کروا لیے جائیں گے۔ الاؤنس کی اہم شرائط کے مطابق، یہ سہولت متعلقہ نوٹیفائیڈ اضلاع سے تبادلے کے ساتھ ہی فوری طور پر ختم ہو جائے گی اور یہ رخصتِ اتفاقی یا دیگر منظور شدہ چھٹیوں (ماسوائے غیر معمولی رخصت EOL) کے دوران بھی ملتی رہے گی۔ البتہ او آئی ایس ڈی تقرری، معطلی اور کسی بھی قسم کی آفیشل ٹریننگ کے دوران یہ الاؤنس قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ مزید برآں، یہ رقم پینشن، گریجویٹی یا بنیادی تنخواہ کا حصہ شمار نہیں کی جائے گی اور اس پر رائج انکم ٹیکس کا قانون لاگو ہوگا۔