پشاور: خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت میں صرف تین ماہ کے قلیل عرصے کے دوران 12 سرکاری گاڑیوں کی مرمت کے نام پر ساڑھے 4 کروڑ روپے سے زائد کے اخراجات میں مبینہ خورد برد کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں اس معاملے پر شدید اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد محکمہ اینٹی کرپشن خیبر پختونخوا نے باقاعدہ کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سے سرکاری گاڑیوں کی مرمت اور ادائیگیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
مراسلے کے مطابق، نومبر 2023 سے جنوری 2024 کے دوران مختلف سرکاری گاڑیوں کی مرمت کے سلسلے میں میسرز اسرار الدین خان نامی ٹھیکیدار کو مجموعی طور پر 4 کروڑ 58 لاکھ 78 ہزار روپے ادا کیے گئے۔ دستاویزی شواہد کے مطابق، مذکورہ مدت میں صرف 12 سرکاری گاڑیوں کی مرمت پر یہ خطیر رقم خرچ کی گئی، جس میں حیران کن طور پر ایک مخصوص جینیئس جیپ کی مرمت پر 39 لاکھ 14 ہزار روپے سے زائد کے اخراجات دکھائے گئے ہیں۔ اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ ان متعلقہ گاڑیوں کی لاگ بکس اور ہسٹری شیٹس میں اخراجات کے کوئی ریکارڈز اور اندراجات موجود نہیں ہیں، جس کے باعث ان ادائیگیوں میں بڑے پیمانے پر خورد برد کا مضبوط شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
اینٹی کرپشن خیبر پختونخوا نے محکمہ صحت کو نوٹس موصول ہونے کے 15 روز کے اندر تمام مطلوبہ دستاویزات بشمول بلوں، انوائسز، ادائیگیوں کے واؤچرز، چیکوں کی نقول، تقابلی گوشواروں اور ورک آرڈرز کا ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مزید برآں، ٹھیکیدار میسرز اسرار الدین خان کی رجسٹریشن اور سابقہ کاموں کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ مراسلے میں خیبر پختونخوا اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ رولز 1999 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ ریکارڈ کی عدم فراہمی یا تاخیر کی صورت میں متعلقہ قانون کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تاہم محکمہ صحت کو سہولت دی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کی جلد تکمیل کے لیے گریڈ 17 یا اس سے اوپر کے کسی افسر کو فوکل پرسن نامزد کر سکتا ہے۔