اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی کے اہم ترین اجلاس کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں پارٹی کے اندر کسی بھی قسم کے اختلافات، گروپ بندی یا تقسیم کی خبروں کی یکسر تردید کی گئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق، پوری جماعت بانی پی ٹی آئی کی قیادت، نظریے اور مشن کے ساتھ مکمل طور پر متحد اور یکجا ہے، اور تمام رہنما و کارکنان مشترکہ قومی مقاصد کے حصول کے لیے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
سیاسی کمیٹی نے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ، اسپیکر اسمبلی اور دیگر پارلیمنٹیرینز کی حالیہ حراست کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پی ٹی آئی اعلامیے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عوامی نمائندوں کو اس طرح غیر قانونی حراست میں رکھنا نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ یہ براہِ راست عوامی مینڈیٹ کی کھلی توہین ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کمیٹی نے بانی پی ٹی آئی اور سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی کو اچانک اسپتال منتقل کیے جانے کی اطلاعات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں شخصیات کے اہلخانہ کو اعتماد میں لیے بغیر اس طرح کی منتقلی انتہائی تشویش ناک اور مشکوک ہے۔
اعلامیے کے آخری حصے میں ملکی امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے دہشت گردی کو ایک ناسور قرار دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا ریاست کی بنیادی اور اولین ذمہ داری ہے، جس کے لیے مؤثر اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ تاہم، پارٹی نے مقتدر حلقوں کو سخت انتباہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں اور آپریشنز کو کسی بھی صورت سیاسی انتقام یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔