راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے سیاسی قیادت کی بروقت ملاقاتیں کروا دی جاتیں تو آج ملک میں جاری سیاسی تناؤ، ایمرجنسی کی افواہیں یا خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی نوبت ہی نہ آتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ جیسے ممکنہ فیصلوں سے مکمل باخبر ہیں۔
اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کبھی بھی جمہوری روایات کو خوش آئند قرار نہیں دیا۔ اگر بانی پی ٹی آئی سے باقاعدگی کے ساتھ سیاسی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا تو ملک اس نہج پر نہ پہنچتا۔ جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسمبلی میں جو تقریر کی، پی ٹی آئی کے بعض ارکان نے اس پر نامناسب الفاظ استعمال کیے جو نہیں ہونے چاہیے تھے، کیونکہ یہ ان کی اپنی جماعت اور سیاست ہے۔ البتہ حکومتی نمائندوں نے جس طرح اس کا جواب دیا، وہ بھی انتہائی نامناسب تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک، قوم اور جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی کشیدگی کو ختم کرنا ہوگا اور سب کو مل بیٹھ کر تناؤ کم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی 8 اپریل کے بعد یعنی تقریباً 380 دن گزرنے کے بعد یہ پہلی ملاقات کرائی گئی ہے، جو کہ بذاتِ خود ایک خوش آئند بات ہے لیکن ملاقاتیں بند ہونے کی وجہ سے بہت بڑا خلا پیدا ہو چکا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی عام قیدی کو 15 دن تک اس کی فیملی سے نہ ملنے دیا جائے تو یہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اور جیل مینوئل کے تحت اس قسم کی پابندیاں غیر قانونی ہیں۔