مفتی محمود مرکز کی تعمیر کے لیے لیبیا سے مبینہ فراڈ کے ذریعے فنڈز لیے گئے، مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور کے سنگین الزامات
پشاور (بیورو رپورٹ): گورنر خیبرپختونخوا کی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور رنگ روڈ پر قائم مفتی محمود مرکز سے متعلق انتہائی اہم اور سنسنی خیز دستاویزات منظر عام پر لانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اپنے ایک جاری کردہ بیان میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مفتی محمود مرکز کی تعمیر کے لیے مولانا فضل الرحمان نے لیبیا سے مبینہ فراڈ کے نام پر خطیر رقم حاصل کی۔
مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ دستیاب دستاویزی شواہد کے مطابق مفتی محمود مرکز کی تعمیر میں لیبیا کا پیسہ استعمال ہوا، لیکن حیرت انگیز طور پر اس اہم جائیداد کی ملکیت مرکز یا جماعت کے بجائے براہِ راست مولانا فضل الرحمان کے نام پر سامنے آرہی ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو شفافیت کے اصولوں کے خلاف اور مبینہ مالیاتی خرد برد کا واضح کیس قرار دیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے مرکز کی تعمیراتی حیثیت پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ ثمر بلور نے واضح کیا کہ مفتی محمود مرکز کی بیرونی تعمیرات سرکاری 'رائٹ آف وے' (Right of Way) کی اراضی پر کی گئی ہیں، جو قانوناً تجاوزات کے زمرے میں آتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے سال 2019 میں دیے گئے نوٹس کے باوجود اس مرکز کی تجاوزات کو برقرار رکھا گیا، جبکہ حال ہی میں مئی 2026 میں بھی مفتی محمود مرکز کی انتظامیہ کو ان تجاوزات کو ہٹانے کے لیے باقاعدہ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
مشیر اطلاعات نے صوبائی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ سرکاری اراضی کی واگزاری اور تجاوزات کے فوری خاتمے کے لیے قانون کا نفاذ بلا امتیاز یقینی بنایا جائے اور عوامی املاک پر قائم غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔