اسلام آباد (خصوصی مانیٹرنگ ڈیسک، حسبان میڈیا): پاکستان کے مجموعی سرکاری قرضوں اور حکومتی ضمانتوں کے حامل واجبات کے حجم میں ایک سال کے دوران 62.1 کھرب روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری دستاویزات کے مطابق، جون 2025 سے جون 2026 کے عرصے میں ملکی قرضوں کے کل حجم میں 7.3 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد مجموعی ملکی و غیر ملکی قرضے 847.7 کھرب روپے کی سطح سے بڑھ کر 909.8 کھرب روپے کی تاریخی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔
مالیاتی ڈیٹا کے تفصیلی تجزیے کے مطابق، اس مجموعی اضافے میں سے خالص سرکاری قرضوں میں 62 کھرب روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ حکومتی ضمانتوں پر حاصل کردہ قرضوں کا حجم تقریباً 0.1 کھرب (10 ارب) روپے بڑھا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے ترقیاتی اخراجات، بجٹ خسارے اور پرانے قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کے باعث وفاقی حکومت کو مسلسل قرضوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، جس نے معیشت پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔
تاہم، اس رپورٹ کا ایک مثبت اور اہم پہلو یہ ہے کہ مجموعی حجم میں کھربوں روپے کے اضافے کے باوجود مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے مقابلے میں قرضوں کے تناسب میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، جون 2025 میں جی ڈی پی کے مقابلے میں قرضوں کا تناسب 74.3 فیصد تھا، جو معیشت کے حجم میں بہتری اور نمو کے باعث جون 2026 کے اختتام تک کم ہو کر 71.7 فیصد کی سطح پر آ گیا ہے۔ حکومت اس شرح میں کمی کو اپنی مالیاتی اصلاحات کی کامیابی قرار دے رہی ہے۔