حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ Home / سیاست /

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

ایڈیٹر - 28/10/2026
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد؛ الیکشن کمیشن نے طویل سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا

اسلام آباد (رپورٹ: حسبان میڈیا): الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے معاملے پر فریقین کے دلائل اور طویل بحث سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے اس اہم کیس کی سماعت کی، جس کے دوران مشیرِ قانون خیبر پختونخوا عامر جاوید، سیکرٹری مقامی حکومت، سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال اور ارشد خان عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران صوبے میں امن و امان کی صورتحال، صدارتی آرڈر کے تحت نافذ ایمرجنسی اور حلقہ بندیوں کے قانونی ابہام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سماعت کے دوران سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بینچ کو آگاہ کیا کہ 19 ستمبر کو اس وقت کی خیبر پختونخوا حکومت کو قانون سازی کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم وہ عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن آرڈر کے ذریعے ان اضلاع میں الیکشن کروایا جا سکتا ہے جہاں حلقہ بندی مکمل ہو چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، صوبے کے 23 اضلاع میں حلقہ بندی کا عمل مکمل ہے جبکہ 16 اضلاع میں حلقہ بندی مکمل ہوتے ہی انتخابی شیڈول جاری کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، یہ بات بھی سامنے آئی کہ مجموعی طور پر 36 اضلاع میں سے 12 اضلاع ایسے ہیں جہاں آئین کے آرٹیکل 140 اے کا اطلاق نہیں ہو سکتا، جبکہ ان 12 اضلاع میں سے 6 اضلاع میں اب تک حلقہ بندی سرے سے ہوئی ہی نہیں ہے۔

دورانِ سماعت چیف الیکشن کمشنر نے نوٹ کیا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے حلقوں کے لیے آبادی کی حد (تھریش ہولڈ) میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ پہلے قانون کے تحت ایک حلقے کی آبادی 5 سے 15 ہزار تھی، جسے موجودہ قانون کے مطابق بڑھا کر 30 سے 40 ہزار کر دیا گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ یا تو آبادی کا یہ تھریش ہولڈ کم کیا جائے یا پھر یونین کونسل کی حدود تبدیل کی جائیں۔ دوسری جانب، مشیرِ قانون عامر جاوید نے عدالت کو بتایا کہ صدارتی آرڈر کے ذریعے پورے صوبے میں ایمرجنسی نافذ ہے اور سیکیورٹی کے لیے فوج طلب کی گئی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ نارمل ایمرجنسی سے انتخابی عمل پر فرق نہیں پڑتا، لیکن سیکیورٹی تھریٹ والے علاقوں میں ووٹرز اور پولنگ عملے کی حفاظت کا سنگین مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ صوبائی اسمبلی کی جانب سے نجی بل کے ذریعے کی جانے والی ترمیم نے قانون میں ابہام پیدا کر دیا ہے، جس کی اصلاح کے لیے اب معاملہ دوبارہ قومی اسمبلی بھیجنا پڑے گا۔ چیف الیکشن کمشنر نے سماعت کے اختتام پر کہا کہ آئین بلدیاتی انتخابات کے بارے میں بالکل واضح ہے اور الیکشن ایکٹ کے تحت مسئلہ ہونے پر کمیشن اپنا آرڈر جاری کر سکتا ہے۔