حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خیبر پختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب پر پی ٹی آئی میں اندرونی ہلچل تیز؛ علی امین گنڈاپور کی واپسی کے لیے لابنگ شروع Home / سیاست /

خیبر پختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب پر پی ٹی آئی میں اندرونی ہلچل تیز؛ علی امین گنڈاپور کی واپسی کے لیے لابنگ شروع

ایڈیٹر - 27/10/2026
خیبر پختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب پر پی ٹی آئی میں اندرونی ہلچل تیز؛ علی امین گنڈاپور کی واپسی کے لیے لابنگ شروع

پشاور: خیبر پختونخوا کے نئے چیف ایگزیکٹو کے انتخاب کے لیے پی ٹی آئی میں سیاسی جوڑ توڑ عروج پر، قیادت میں اختلافات اور لابنگ کھل کر سامنے آ گئی

پشاور ( حسبان میڈیا): خیبر پختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے معاملے پر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی حلقوں میں سیاسی سرگرمیاں اور دھڑے بندیاں انتہائی تیز ہو گئی ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق، صوبے کی نئی قیادت کے انتخاب کے حوالے سے پی ٹی آئی کے متعدد مرکزی رہنماؤں اور صوبائی اسمبلی کے اراکین (ایم پی ایز) کے مابین شدید اختلافِ رائے پایا جاتا ہے، جس کے بعد پاور ہاؤسز میں مختلف گروپ اپنے اپنے پسندیدہ امیدوار کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے چند اہم اور مقتدر مرکزی رہنماؤں کی خواہش ہے کہ اس مرتبہ صوبائی محرومیوں کے خاتمے کے لیے بونیر یا ہزارہ ڈویژن سے کسی موزوں شخصیت کو وزیراعلیٰ منتخب کیا جائے۔ دوسری جانب، پی ٹی آئی کا ایک متبادل اور طاقتور دھڑا سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو دوبارہ چیف ایگزیکٹو کے منصب پر فائز دیکھنے کا خواہشمند ہے، اور اس سلسلے میں 30 سے زائد اراکینِ اسمبلی نے ان کے حق میں باقاعدہ لابنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اراکینِ اسمبلی نے آپسی رابطوں کو تیز کرنے کے لیے ایک الگ واٹس ایپ گروپ بھی تشکیل دے دیا ہے، جسے بعض حلقے نئی گروپ بندی کا نام دے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، بانی پی ٹی آئی عمران خان سے براہِ راست مشاورت نہ ہونے کی صورت میں نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب محض عارضی ہوگا۔ جب تک بانی پی ٹی آئی سے حتمی ملاقات اور منظوری نہیں مل جاتی، پارلیمانی پارٹی کا منتخب کردہ شخص ہی عارضی طور پر فرائض سرانجام دے گا۔

دوسری جانب، پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے ان افواہوں پر جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ نئے وزیراعلیٰ کے نام سے متعلق ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر سہیل آفریدی نااہل ہوتے ہیں، تو پارٹی قیادت باہمی مشاورت سے نیا نام سامنے لائے گی۔ شوکت یوسفزئی نے پارٹی میں کسی بھی قسم کی گروپ بندی یا دھڑے بندی کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اراکینِ اسمبلی نے واٹس ایپ گروپ صرف آپسی روابط بحال رکھنے کے لیے بنایا ہے، اور علی امین گنڈاپور کا نام بھی پہلے پارلیمانی پارٹی نے ہی تجویز کیا تھا۔