حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، مذاکراتی اختیارات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر رہنماؤں میں شدید اختلافات کا انکشاف Home / سیاست /

پی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، مذاکراتی اختیارات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر رہنماؤں میں شدید اختلافات کا انکشاف

ایڈیٹر - 28/10/2026
 پی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، مذاکراتی اختیارات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر رہنماؤں میں شدید اختلافات کا انکشاف

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، مذاکراتی اختیارات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر رہنماؤں میں شدید اختلافات کا انکشاف

اسلام آباد (رپورٹ: حسبان میڈیا): پاکستان تحریکِ انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے حالیہ اجلاس کی انتہائی حساس اندرونی تفصیلات منظرِ عام پر آئی ہیں، جس کے مطابق حکومت سے مذاکرات کے معاملے اور پارٹی قیادت کے اختیارات پر رہنماؤں کے مابین شدید جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق، پارٹی رہنما اعظم سواتی نے اجلاس کے دوران دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے انہیں حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کا مکمل اختیار دیا ہے۔ تاہم، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے انہیں درمیان میں ہی ٹوک دیا اور ان کے دعوے کی سختی سے تردید کر دی۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دوران اعظم سواتی کے اختیار کے بارے میں پوچھا تھا، جس پر عمران خان نے واضح کیا کہ انہوں نے اعظم سواتی کو مذاکرات کا کوئی اختیار نہیں دیا، بلکہ یہ ذمہ داری علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو سونپی گئی ہے۔ اس سنسنی خیز مکالمے کے بعد اعظم سواتی ناراض ہو کر اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اجلاس میں شریک ارکان کی اکثریت حکومت کے ساتھ مذاکرات کی حامی نظر آئی۔ سابق وفاقی وزیر نور الحق قادری نے جب تین مرتبہ "مذاکرات، مذاکرات، مذاکرات" کا نعرہ لگایا تو ہال میں موجود ارکان نے تالیاں بجا کر ان کی تائید کی۔ اس دوران مشعال یوسفزئی نے سہیل آفریدی اور موجودہ اپوزیشن قیادت پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی علیل ہیں جبکہ کچھ رہنماؤں کو مذاکرات کے بجائے لانگ مارچ کی پڑی ہوئی ہے۔ مشعال یوسفزئی کے اس بیان پر سابق سپیکر اسد قیصر اور شفقت اعوان نے سخت ردِعمل دیا اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی اور حلیف جماعتوں کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے، لہٰذا حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے بجائے اپنوں پر الزام تراشی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق، ارکان کی تقاریر میں بے جا مداخلت پر مرکزی قائدین نے مشعال یوسفزئی پر شدید برہمی کا اظہار بھی کیا۔

دوسری جانب، اجلاس کے اختتام پر تحریکِ انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کی کوششوں کو صوبائی خودمختاری اور آئینِ پاکستان پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسے فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں، اجلاس میں سہیل آفریدی کی سربراہی میں صوبائی حکومت کی مکمل بحالی، منتخب قیادت اور کارکنوں پر پولیس چھاپوں اور گرفتاریوں کی مذمت، اور تمام اسیر رہنماؤں بشمول بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی فوری قانونی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پارلیمانی پارٹی نے عمران خان کے علاج معالجے کے حوالے سے سپریم کورٹ کی ہدایات پر من و عن عمل درآمد کرنے پر بھی زور دیا ہے۔