حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خیبر پختونخوا کا 'صحت کارڈ پلس' پروگرام شدید مالی بحران کا شکار، سرکاری دستاویزات میں بڑے انتظامی اور مالیاتی تحفظات کا انکشاف Home / پاکستان /

خیبر پختونخوا کا 'صحت کارڈ پلس' پروگرام شدید مالی بحران کا شکار، سرکاری دستاویزات میں بڑے انتظامی اور مالیاتی تحفظات کا انکشاف

ایڈیٹر - 28/10/2026
 خیبر پختونخوا کا 'صحت کارڈ پلس' پروگرام شدید مالی بحران کا شکار، سرکاری دستاویزات میں بڑے انتظامی اور مالیاتی تحفظات کا انکشاف

پشاور: خیبر پختونخوا کا 'صحت کارڈ پلس' پروگرام شدید مالی بحران کا شکار، سرکاری دستاویزات میں بڑے انتظامی اور مالیاتی تحفظات کا انکشاف

پشاور (رپورٹ: حسبان میڈیا): خیبر پختونخوا کے عوام کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے والے فلیگ شپ منصوبے 'صحت کارڈ پلس' کے حوالے سے وزیرِ اعلیٰ سیکرٹریٹ کی اہم دستاویزات منظرِ عام پر آئی ہیں، جن میں پروگرام کے پائیدار مالیاتی ماڈل اور طویل مدتی منصوبہ بندی پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، 10 ستمبر کو منعقدہ اور 25 ستمبر کو جاری ہونے والے زوم اجلاس کے منٹس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پروگرام کے بے قابو اخراجات اور نجی ہسپتالوں کے ساتھ طے پانے والے منہ مانگے سروس ریٹس نے صوبائی خزانے کو شدید مالیاتی دباؤ کا شکار کر دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق، سابقہ دورِ حکومت میں بغیر کسی مستحکم بجٹ ماڈل کے اس منصوبے کو سیاسی بنیادوں پر تیزی سے وسعت دی گئی، جس کی وجہ سے بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) اور دیہی ہسپتالوں تک دائرہ پھیلانے کے باوجود ہیلتھ سیکٹر کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ فنڈز کی شدید قلت کے باعث اب پروگرام کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں تجویز کی جا رہی ہیں، جس کے تحت اب یہ منصوبہ "مکمل مفت" رہنے کے بجائے جزوی مالی شراکت داری کی طرف منتقل ہو سکتا ہے۔

اس ضمن میں سرکاری ملازمین پر نئی کڑی شقیں لاگو کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کے تحت برونز، سلور اور گولڈ نامی پیکیجز متعارف کرائے جائیں گے۔ ان پیکیجز کے تحت ملازمین سے مالی شراکت (Financial Contribution) لی جائے گی، جس کا براہِ راست بوجھ غریب عوام اور تنخواہ دار طبقے کی جیب پر پڑے گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق کو نظرانداز کر کے صرف سیاسی مفادات اور تشہیر کے لیے اس منصوبے کا ڈھول پیٹا گیا، جس کا خمیازہ اب صوبے کی عوام بھگت رہی ہے۔ تاہم، حتمی کایا پلٹ اور نئے پیکیجز کے نفاذ کے حوالے سے صوبائی حکومت کی باقاعدہ منظوری اور شواہد کا انتظار کیا جا رہا ہے۔