پشاور: دوران پور میں زہریلی مشروم کے مبینہ استعمال سے 3 بچے جاں بحق، ہسپتال انتظامیہ پر طبی غفلت کے سنگین الزامات
پشاور (رپورٹ: حسبان میڈیا): صوبائی دارالحکومت پشاور کے نواحی علاقے دوران پور کے میاں عبدالولی شاہ ٹاؤن میں ایک انتہائی دلخراش اور المناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں مبینہ طور پر جنگلی مشروم کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے تین کمسن بچے جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ اس جان لیوا واقعے میں بچوں کے والدین اور ایک بہن کی طبیعت بھی ناساز ہوئی، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس ناگہانی آفت نے متاثرہ خاندان کو گہرے صدمے اور پورے علاقے کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کی شناخت 11 سالہ عروج، 10 سالہ فریال اور 7 سالہ ازلان کے ناموں سے ہوئی ہے۔ بچوں کے والد محمد ظاہر نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ گھر کے قریبی کھیتوں میں قدرتی طور پر اگنے والی مشروم (کھمبی) جمع کر کے لائے تھے، جسے ان کی اہلیہ نے پکا کر رات کے کھانے میں پیش کیا۔ کھانا کھانے کے کچھ ہی دیر بعد خاندان کے تمام افراد کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور وہ بے ہوش ہو گئے۔
متاثرہ والد کا کہنا ہے کہ ان کا بھائی تمام اہل خانہ کو بے ہوشی کی حالت میں فوری طور پر پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (LRH) لے کر پہنچا، تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں موقع پر ڈاکٹرز دستیاب نہیں تھے۔ مزید برآں، انتہائی نگہداشت یونٹ (ICU) میں بستر میسر نہ ہونے کے باعث انہیں مجبوراً ہسپتال کے سامنے قائم ایک نجی طبی مرکز کے آئی سی یو میں منتقل ہونا پڑا۔ محمد ظاہر کے مطابق، نجی ہسپتال میں مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب ان کے تینوں بچے یکے بعد دیگرے دم توڑ گئے۔ انہوں نے نجی مرکز کی انتظامیہ پر یہ سنگین الزام بھی لگایا کہ وہ فیس کی ادائیگی کے بغیر معصوم بچوں کی لاشیں حوالے کرنے سے انکاری تھی۔
دوسری جانب، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ واقعے میں استعمال ہونے والی مشروم کی نوعیت اور بچوں کی اموات کی اصل وجہ تاحال سو فیصد واضح نہیں ہے اور اس کے لیے تفصیلی پوسٹ مارٹم اور کیمیائی تجزیے کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ ماہرین نے عوام الناس کو سخت تاکید کی ہے کہ کھیتوں یا جنگلوں میں خود رو اگنے والی نامعلوم مشرومز کا استعمال ہرگز نہ کریں کیونکہ ان میں سے بیشتر شدید زہریلی ہوتی ہیں جو انسانی جان کے لیے فوری طور پر مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس افسوسناک واقعے نے جہاں ایک ہنستے کھیلتے خاندان کو اجاڑ دیا ہے، وہاں پشاور کے سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی طبی سہولتوں کی عدم دستیابی اور نجی کلینکس کے کمرشل رویے پر بھی کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔