حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
تجاوزات کے خلاف کارروائیاں: آ بیل مجھے مار! Home / بلاگز /

تجاوزات کے خلاف کارروائیاں: آ بیل مجھے مار!

ایڈیٹر - 27/10/2026
تجاوزات کے خلاف کارروائیاں: آ بیل مجھے مار!

تجاوزات کے خلاف کارروائیاں: آ بیل مجھے مار!

خالد خان

خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ ہوا تو اس کے خلاف عوام سڑکوں پر نہیں نکلے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حمایت میں کوئی ایسی بڑی عوامی تحریک برپا نہیں ہوئی جس سے صوبے کی سڑکیں بھر جاتیں، اور لانگ مارچ کی اپیلیں بھی عوام کو اس پیمانے پر متحرک نہ کر سکیں جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاستی انتظامیہ اب اپنے ہی اقدامات سے عوام کو سڑکوں پر لانے کا راستہ ہموار کر رہی ہے؟ کیا یہ محض حکومتی ترجیحات کی غلط ترتیب ہے یا ایسا طرزِ عمل اختیار کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں وہ عوامی ردعمل پیدا ہو سکتا ہے جو سیاسی اپیلیں پیدا نہیں کر سکیں؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کا بنیادی جواز دہشت گردی اور امن و امان کی صورتِ حال کو بنایا گیا تھا۔ عوام کو توقع تھی کہ اس غیرمعمولی انتظامی بندوبست کے بعد دہشت گردی کی روک تھام، شہریوں کے تحفظ، امن و امان کی بحالی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نمایاں اقدامات سامنے آئیں گے۔ لیکن جب صوبے میں تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائیاں حکومتی سرگرمیوں کا نمایاں چہرہ بن جائیں، ہزاروں گھرانے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں اور کروڑوں روپے کے مالی نقصانات کی شکایات پیدا ہوں، تو یہ پوچھنا لازم ہو جاتا ہے کہ حکومت نے اپنی ترجیحات کس بنیاد پر طے کی ہیں۔
ریاستی طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنی عمارتیں گرا سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ عوام کو کتنا تحفظ، انصاف اور ریلیف فراہم کرتی ہے۔ اگر عوام پہلے ہی دہشت گردی، مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی سے پریشان ہوں، اور ایسے میں ان کے گھروں، دفاتر، پلازوں، پیٹرول پمپس اور کاروباری مراکز کو بھی انہدامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے، تو ان کے اندر بے چینی پیدا ہونا غیرمتوقع نہیں۔ حکومت کو سوچنا چاہیے کہ کیا وہ عوام کے مسائل حل کر رہی ہے یا اپنے طرزِ عمل سے نئے مسائل پیدا کرکے لوگوں کو احتجاج کی طرف دھکیل رہی ہے؟ ریاستی حکمتِ عملی کا مقصد عوام کو ریاست کے مقابل کھڑا کرنا نہیں، بلکہ ان کا اعتماد حاصل کرنا ہونا چاہیے۔
تجاوزات کے خلاف کارروائی کی اصولی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں کو غیرقانونی قبضوں سے پاک کرنا اور سرکاری زمینوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن قانون نافذ کرنے کے نام پر ہر تعمیر کو ایک ہی پیمانے سے جانچنا بھی درست نہیں۔ سب سے پہلے حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ تجاوزات کی قانونی تعریف کیا ہے، کارروائی کے لیے کون سے ضابطے مقرر ہیں اور ان ضابطوں کا اطلاق کس طریقے سے کیا جا رہا ہے۔
صوبے میں ایسی عمارتیں بھی موجود ہیں جو کئی دہائیوں سے قائم ہیں۔ بعض مالکان کے پاس ملکیتی دستاویزات، متعلقہ محکموں کے اجازت نامے اور ٹیکس کی ادائیگیوں کا ریکارڈ ہے۔ ان عمارتوں کو برسوں سے بجلی، گیس اور پانی جیسی سرکاری سہولتیں بھی فراہم ہوتی رہی ہیں۔ بعض تعمیرات ستر برس یا اس سے بھی زیادہ پرانی بتائی جاتی ہیں۔ محض عمارت کی قدامت یا سرکاری سہولتوں کی فراہمی اس کی قانونی حیثیت کا حتمی ثبوت نہیں، لیکن ان حقائق کو نظرانداز کرکے عمارت گرا دینا بھی قانونی جانچ کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ ہر معاملے میں ملکیت، اجازت ناموں، منظور شدہ نقشوں اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ ہونی چاہیے، تاکہ حقیقی تجاوزات اور قانونی حیثیت رکھنے والی تعمیرات کے درمیان فرق واضح ہو۔
اس سے بھی بنیادی سوال سرکاری محکموں کی جواب دہی کا ہے۔ اگر کسی عمارت کی تعمیر کی اجازت متعلقہ ادارے نے دی، اس کے عوض فیس وصول کی اور برسوں تک اس کی نگرانی نہیں کی تو اس غفلت کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر اجازت نامہ قواعد کے خلاف جاری ہوا تھا تو اسے جاری کرنے والے افسران کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ اگر مختلف محکمے برسوں ایک ہی تعمیر کو برداشت کرتے رہے تو صرف شہری کو سزا دینے سے انتظامی ذمہ داری کیسے پوری ہو جاتی ہے؟ ریاست اپنے اداروں کی غلطیوں اور غفلت کا بوجھ یک طرفہ طور پر عوام پر نہیں ڈال سکتی۔ قانون کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ شہریوں کے ساتھ ساتھ ذمہ دار سرکاری اہلکاروں کا احتساب بھی ہو۔
دکانوں کے سائن بورڈز اور اشتہاری تنصیبات کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ اگر بورڈز کے سائز اور تنصیب کے لیے مخصوص قواعد موجود تھے تو ان کی مناسب تشہیر کیوں نہیں کی گئی؟ کاروباری افراد کو ان قواعد سے آگاہ کرنے اور جہاں قانون اجازت دے وہاں خلاف ورزی درست کرنے کے لیے مہلت کیوں نہیں دی گئی؟ مزید یہ کہ بعض پبلسٹی بورڈز متعلقہ اداروں کی اجازت سے نصب کیے گئے تھے اور ان کے عوض سالانہ لاکھوں روپے فیس وصول کی جاتی رہی۔ اگر ایسے بورڈز بھی گرا دیے گئے تو اجازت دینے، فیس وصول کرنے اور بعد میں انہدام کا فیصلہ کرنے والے اداروں کو اپنی پالیسی کی وضاحت کرنی چاہیے۔ شہریوں نے سرکاری اجازت پر سرمایہ کاری کی تھی تو اس کے قانونی اور مالی نتائج کا تعین بھی ضروری ہے۔
اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں سے ہزاروں گھرانے متاثر ہوئے اور لوگوں کو کروڑوں روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نقصان کا دائرہ صرف عمارتوں کے مالکان تک محدود نہیں رہتا؛ کاروباروں میں کام کرنے والے ملازمین، کرایہ دار، سپلائرز اور ان سے وابستہ خاندان بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ایک کاروباری مرکز کے خاتمے سے کئی لوگوں کا روزگار ختم ہو سکتا ہے۔ ایسے معاشی حالات میں حکومت کو ہر کارروائی کے انسانی اثرات کا جائزہ لینا چاہیے۔ اگر کسی مقام پر فوری کارروائی ناگزیر نہ ہو تو قانونی نوٹس، ریکارڈ کی جانچ، سماعت اور ممکنہ اصلاح کا راستہ اختیار کرکے غیرضروری نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔
اب سوال حکومتی ترجیحات کا ہے۔ جب صوبے میں دہشت گردی کے واقعات جاری ہوں، شہریوں کو تحفظ درکار ہو، مہنگائی گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈال رہی ہو، آٹے کی دستیابی اور ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر عمل درآمد جیسے مسائل موجود ہوں اور سرکاری خدمات میں بہتری کی ضرورت ہو تو حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ ان شعبوں میں کیا پیش رفت ہوئی ہے۔ گورنر راج کے بعد دہشت گردی روکنے کے لیے کون سے عملی اقدامات کیے گئے، امن و امان کی صورتِ حال میں کیا تبدیلی آئی اور عوام کو کیا قابلِ تصدیق نتائج ملے؟ اگر یہ وہ بنیادی مسئلہ تھا جس کی بنیاد پر غیرمعمولی انتظامی اقدام اٹھایا گیا تو اس پر حکومتی کارکردگی عوام کے سامنے آنا ضروری ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ’’آ بیل مجھے مار‘‘ کا محاورہ اپنی معنویت واضح کرتا ہے۔ جب سیاسی حالات پہلے ہی حساس ہوں، عوام معاشی دباؤ میں ہوں اور حکومتی اقدامات سے ان کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہو تو ایسی مہم کو اس انداز میں چلانا جو وسیع عوامی بے چینی پیدا کرے، انتظامی حکمتِ عملی پر سنجیدہ سوال اٹھاتا ہے۔ حکومت کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا وہ اپنی کارکردگی سے عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہے یا ایسے فیصلوں کے ذریعے خود اپنے خلاف احتجاج کے اسباب پیدا کر رہی ہے؟ عوام کو سڑکوں پر لانے کے لیے کسی سیاسی جماعت کی اپیل ہمیشہ ضروری نہیں ہوتی؛ کبھی ریاستی اداروں کا غیرمحتاط طرزِ عمل بھی لوگوں کو اس مقام تک پہنچا دیتا ہے جہاں وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی احتجاج پر خود کو مجبور محسوس کرتے ہیں۔
یہ کہنا کہ حکومت دانستہ طور پر عوام کو سڑکوں پر لانا چاہتی ہے، ایک سنگین دعویٰ ہے جس کے لیے براہِ راست شواہد درکار ہوں گے۔ تاہم، حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں عوامی ردعمل پیدا ہونے کے امکان کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اگر حکومت واقعی عوامی اعتماد مضبوط کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنی ترجیحات پر نظرثانی، کارروائیوں کے قانونی معیار کی وضاحت، متاثرین کی شکایات کے ازالے اور سرکاری اہلکاروں کی جواب دہی کو یقینی بنانا چاہیے۔ حکومت کو یہ بھی دکھانا ہوگا کہ تجاوزات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، مہنگائی، روزگار اور عوامی خدمات جیسے بنیادی مسائل پر بھی عملی پیش رفت ہو رہی ہے۔
یہ معاملہ گورنر راج کی حمایت یا مخالفت کا نہیں، بلکہ ریاستی ذمہ داری اور عوامی مفاد کا ہے۔ غیرقانونی تجاوزات ختم ہونی چاہییں، مگر قانونی حیثیت رکھنے والی تعمیرات کے معاملات شواہد کی بنیاد پر طے ہونے چاہییں۔ سرکاری اداروں کی غلطیوں کا احتساب ہونا چاہیے، کاروباری افراد کو قواعد سے آگاہ کیا جانا چاہیے اور عوام کو غیرضروری مالی نقصان سے بچانے کے لیے مناسب قانونی طریقۂ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔
حکومت کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ وہ گورنر راج کے بنیادی جواز، یعنی دہشت گردی اور امن و امان، پر اپنی کارکردگی کب اور کیسے عوام کے سامنے رکھے گی؟ اور کیا تجاوزات کے خلاف اس مہم کو ایسے طریقے سے چلایا جا سکتا ہے جس میں قانون کی عمل داری بھی قائم ہو، سرکاری زمینیں بھی محفوظ ہوں اور عوام اپنے ہی ریاستی اداروں کے مقابل کھڑے ہونے پر مجبور بھی نہ ہوں؟
ریاست کی کامیابی عوام کو خاموش رکھنے میں نہیں، ان کے مسائل حل کرنے میں ہے۔ حکومت کو عمارتیں گرانے کی قوت دکھانے کے ساتھ یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردی روکنے، روزگار محفوظ رکھنے، انصاف فراہم کرنے اور عوام کا اعتماد جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ورنہ جس مہم کا مقصد نظم و نسق بہتر بنانا ہو، وہی عوامی بے چینی بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے—اور یہی وہ صورتِ حال ہے جس سے ایک ذمہ دار حکومت کو ہر قیمت پر بچنا چاہیے۔