باجوڑ: محکمہ جنگلات باجوڑ کا فارسٹ گارڈز کی بھرتیوں پر سوشل میڈیا الزامات کا دوٹوک جواب، شفافیت کے تمام حقائق سامنے لے آیا
خار ( حسبان میڈیا): محکمہ جنگلات باجوڑ نے ضلع باجوڑ میں فارسٹ گارڈز کی حالیہ بھرتیوں کے عمل سے متعلق سوشل میڈیا پر زیرِ گردش بعض منفی اطلاعات، افواہوں اور بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ڈویژنل فارسٹ آفیسر باجوڑ کے دفتر سے جاری کردہ ایک مفصل وضاحتی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ بھرتی کا تمام عمل مروجہ سرکاری قواعد و ضوابط، مقررہ قانونی طریقہ کار اور خالصتاً میرٹ کے اصولوں کے عین مطابق مکمل کیا گیا ہے اور اس میں کسی بھی سطح پر اقربا پروری یا بدعنوانی کو شامل نہیں ہونے دیا گیا۔
محکمہ جنگلات کے مطابق، فارسٹ گارڈز کی 31 اوپن میرٹ اور 4 اقلیتی کوٹے کی آسامیوں کے لیے باقاعدہ اشتہار کے بعد جسمانی اور کمپیوٹرائزڈ تحریری امتحانات ایٹا (ETEA) کے ذریعے منعقد کرائے گئے تھے۔ مروجہ قواعد کے تحت مقابلے کی فضا برقرار رکھنے کے لیے 31 آسامیوں کے خلاف 155 امیدواروں (بشرطِ تناسب 1:5) کو انٹرویو کے لیے مدعو کیا گیا۔ اعلامیے میں اس مغالطے کو دور کیا گیا ہے کہ حتمی انتخاب صرف تحریری ٹیسٹ کے نمبروں پر ہونا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انٹرویو کا مرحلہ امیدوار کی قابلیت، ملازمت کے لیے موزونیت اور مجموعی کارکردگی جانچنے کے لیے لازمی تھا؛ چنانچہ انٹرویو میں بہتر کارکردگی دکھانے والے امیدواروں نے حتمی میرٹ لسٹ میں پوزیشن حاصل کی، جس کی توثیق محکمانہ انتخابی کمیٹی نے کی۔
سوشل میڈیا پر 30 امیدواروں کے تقرری احکامات کی بحث پر وضاحت کرتے ہوئے محکمہ نے بتایا کہ مجموعی طور پر 31 امیدوار ہی منتخب ہوئے ہیں، تاہم ایک امیدوار کی عمر مقررہ حد سے زائد ہونے کے سبب اس کا تقرری نامہ قواعد کے مطابق حکومتی سطح سے عمر میں رعایت (Age Relaxation) کی باقاعدہ منظوری سے مشروط کیا گیا ہے۔ مزید برآں، اقلیتی کوٹے کی 4 آسامیاں ایٹا ٹیسٹ میں کسی بھی امیدوار کے پاس نہ ہونے کے باعث تاحال خالی رکھی گئی ہیں۔
محکمہ جنگلات باجوڑ نے بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے چیلنج کیا ہے کہ اگر کسی بھی امیدوار سے رشوت یا ناجائز سفارش کا مطالبہ کیا گیا ہو، تو وہ قیاس آرائیوں کے بجائے ناقابلِ تردید شواہد کے ساتھ تحریری شکایت ڈویژنل فارسٹ آفیسر باجوڑ کے دفتر میں جمع کرائے، جس پر بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔ عوام اور امیدواروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے دستاویزی حقائق پر بھروسا کریں۔