دادو: سندھ کی مقامی عدالت نے سینیئر سیاستدان اور جنوبی وزیرستان سے سابق رکنِ قومی اسمبلی (ایم این اے) علی وزیر کو ان کے خلاف درج ایک مبینہ مقدمے میں عدم ثبوت کی بنا پر باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
"حسبان میڈیا" کے نمائندے کے مطابق، سابق ایم این اے علی وزیر کے خلاف دادو کے تھانہ 'بی سیکشن' میں مقدمہ نمبر 40/2026 درج کیا گیا تھا، جس کی سماعت دادو کی مقامی عدالت میں جاری تھی۔ علی وزیر کے وکیل حیدر سولنگی نے عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ فاضل جج نے وکلاء کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد علی وزیر کو اس مقدمے سے مکمل طور پر بری کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔
قانونی حلقوں کے مطابق، علی وزیر کو اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے رہا کیے جانے کے احکامات جاری ہوئے تھے، تاہم رہائی کے فوراً بعد انہیں مبینہ طور پر دوبارہ حراست میں لے کر دادو کے تھانے میں درج اس مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے لایا گیا تھا۔ وکیل صفائی حیدر سولنگی نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کے خلاف سیاسی بنیادوں پر بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے تھے اور استغاثہ عدالت میں کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔
عدالت کی جانب سے باعزت بریت کا فیصلہ سامنے آتے ہی عدالت کے باہر موجود علی وزیر کے مداحوں اور سیاسی کارکنوں نے نعرے بازی کی اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پے در پے قانونی پیچیدگیوں اور حراستوں کا سامنا کرنے والے سابق ایم این اے کے لیے یہ عدالتی فیصلہ ایک بڑی قانونی فتح ہے، جس سے ان کے خلاف قائم دیگر مقدمات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔