حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ہارورڈ اسکالرشپ فراڈ کیس: طالبہ لائبہ اعجاز کو خودکشی پر مجبور کرنے والا مرکزی ملزم نعمان مبینہ پولیس مقابلے کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک Home / پاکستان /

ہارورڈ اسکالرشپ فراڈ کیس: طالبہ لائبہ اعجاز کو خودکشی پر مجبور کرنے والا مرکزی ملزم نعمان مبینہ پولیس مقابلے کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ایڈیٹر - 21/10/2026
ہارورڈ اسکالرشپ فراڈ کیس: طالبہ لائبہ اعجاز کو خودکشی پر مجبور کرنے والا مرکزی ملزم نعمان  مبینہ پولیس مقابلے کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

اسلام آباد: اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا جانے کی خواہشمند طالبہ لائبہ اعجاز کو لاکھوں روپے کے فراڈ کے ذریعے خودکشی پر مجبور کرنے والا مرکزی ملزم نعمان تھانہ رمنا کی حدود میں ایک مبینہ پولیس مقابلے کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا ہے۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق، پولیس کی ایک خصوصی ٹیم گرفتار ملزم نعمان کو کیس سے متعلق اہم برآمدگی اور نشاندہی کے لیے لے جا رہی تھی۔ اس دوران تھانہ رمنا کی حدود میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح ملزمان نے پولیس کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی تاکہ ملزم نعمان کو پولیس حراست سے چھڑوایا جا سکے۔ فائرنگ کے اس شدید تبادلے کے دوران ملزم نعمان اپنے ہی مفرور ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر شدید زخمی ہو گیا۔ پولیس نے فوری طور پر زخمی ملزم کو ہسپتال منتقل کیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ بلٹ پروف جیکٹس اور پیشگی حفاظتی اقدامات کے باعث پولیس ٹیم کے تمام اہلکار اس حملے میں محفوظ رہے۔

واضح رہے کہ مقتول ملزم نعمان، تھانہ رمنا میں درج لائبہ اعجاز خودکشی کیس کا مرکزی نامزد ملزم تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق، ملزم نے امریکا کی مشہورِ زمانہ ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے، اسکالرشپ اور امریکی ویزا دلوانے کے نام پر لائبہ اعجاز سے 93 لاکھ روپے کی خطیر رقم ہتھیا کر سنگین فراڈ کیا تھا۔ ملزم کی جانب سے طالبہ کو ہارورڈ یونیورسٹی کے جعلی آفر لیٹرز، فیس کی بوگس رسیدیں اور جعلی اسکالرشپ لیٹرز فراہم کیے گئے تھے۔

جب امریکا میں اعلیٰ تعلیم کا خواب محض ایک دھوکہ ثابت ہوا، تو شدید مالی نقصان اور ناقابلِ برداشت ذہنی اذیت کا سامنا کرتے ہوئے لائبہ اعجاز نے گزشتہ 9 اکتوبر کو گلے میں پھندا ڈال کر مبینہ طور پر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی ہلاکت کے بعد واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور فائرنگ کر کے فرار ہونے والے دیگر چاروں ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔