پشاور: حکومتِ خیبر پختونخوا نے صوبے میں قیمتی معدنی وسائل کی دریافت اور سائنسی بنیادوں پر ان کی جانچ کے عمل کو تیز کرنے کے لیے 180 روز کا خصوصی ایکشن پلان تیار کرتے ہوئے 143.2 ملین روپے کے مزید فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
"حسبان میڈیا" کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، محکمہ معدنیات و معدنی ترقی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں دو اہم اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کو وقتِ مقررہ پر سو فیصد مکمل کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کر لیا گیا ہے۔ ان منصوبوں میں خیبر پختونخوا کی جیو لاجیکل میپنگ (ارضیاتی نقشہ سازی) شامل ہے جس کی مجموعی لاگت 396.383 ملین روپے ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد صوبے بھر میں موجود قیمتی معدنیات کی نشاندہی کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نئے ذخائر کا پتہ لگانا ہے۔ حکومت نے اس اہم ترین منصوبے کو اگلے 180 دنوں کے اندر مکمل کرنے کے لیے 143.2 ملین روپے کے مزید فنڈز جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
دوسرے بڑے منصوبے کے تحت منرل ٹیسٹنگ لیبارٹری کی صلاحیت میں کارآمد اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کی کل لاگت 308.605 ملین روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ڈائریکٹوریٹ جنرل منرلز اینڈ مائنز کی ٹیسٹنگ لیبارٹری کو جدید ترین آلات سے لیس کرنا اور اس کی مائننگ ٹیسٹنگ کی صلاحیت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ اس منصوبے کی طے شدہ مدت میں مکمل پراسیسنگ کے لیے 133.207 ملین روپے کے اجرا کی درخواست کی گئی ہے، جس کے بعد یہ لیبارٹری مکمل طور پر فعال ہو کر کام شروع کر دے گی۔
محکمہ معدنیات کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان دونوں بڑے منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف خیبر پختونخوا میں لوکل ٹیسٹنگ اور جیو میپنگ کی بدولت سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، بلکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہو گا۔ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ معدنی شعبے کو فروغ دے کر اسے صوبے کی معاشی خود انحصاری اور مالی استحکام کا ایک اہم اور پائیدار ذریعہ بنایا جائے۔