اسلام آباد: پاکستان کے ملکی و غیر ملکی قرضوں پر سود اور ادائیگیوں کا بوجھ قومی خزانے پر بری طرح حاوی ہو گیا ہے، جس کے تحت گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران صرف سود کی مد میں 4.9 کھرب روپے کی خطیر رقم ادا کی گئی ہے۔
"حسبان میڈیا" کو موصول ہونے والی وزارتِ خزانہ کی دستاویزات کے مطابق، پاکستان کو حاصل ہونے والے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کا ایک بہت بڑا حصہ ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے اور نقد مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق، غیر ملکی قرضوں میں سے 11.42 ارب ڈالر ادائیگیوں کے توازن اور نقد مالی معاونت کے لیے استعمال ہوئے، جبکہ توانائی کے منصوبوں پر 3.09 ارب ڈالر اور سیلاب سے بحالی کے اقدامات پر 1.69 ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔
دستاویزات کے مطابق، حکومت اس وقت بیرونی قرضوں کی مدد سے 14 بڑے قومی منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن کی مجموعی مالیت 11.86 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ ان میں توانائی، بجلی کی ترسیل، موٹرویز، شہری ٹرانسپورٹ، اعلیٰ تعلیم، سماجی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے منصوبے شامل ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق وزارتِ توانائی کے سات بڑے منصوبے بھی بیرونی قرضوں سے مکمل کیے جا رہے ہیں، جن میں جامشورو توانائی منصوبہ، تربیلا توسیع منصوبہ، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، اور مہمند ڈیم منصوبہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ قومی ٹرانسمیشن ماڈرنائزیشن منصوبے اور توانائی کے شعبے میں سعودی آئل فیسلٹی پروگرام کے لیے 3.38 ارب ڈالر جبکہ آئی ٹی ایف سی آئل اینڈ ایل این جی فنانسنگ فیسلٹی پروگرام کے لیے دو ارب ڈالر کی بیرونی مالی معاونت بھی دستاویزات میں ظاہر کی گئی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ترقیاتی منصوبوں کے باوجود بجٹ کا ایک بڑا حصہ صرف سود کی نذر ہونا ملکی معیشت کے لیے ایک سنگین لمحہ فکریہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔