حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پختونخوا میں ایمرجنسی، صوبے میں فوج تعینات، سہیل آفریدی سمیت 8 اہم رہنما حفاظتی تحویل میں Home / پاکستان /

پختونخوا میں ایمرجنسی، صوبے میں فوج تعینات، سہیل آفریدی سمیت 8 اہم رہنما حفاظتی تحویل میں

ایڈیٹر - 12/10/2026
پختونخوا میں ایمرجنسی، صوبے میں فوج تعینات، سہیل آفریدی سمیت 8 اہم رہنما حفاظتی تحویل میں

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد کریک ڈاؤن: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور اسپیکر سمیت تحریکِ انصاف کے 8 اعلیٰ رہنما پولیس کی حفاظتی تحویل میں منتقل

پشاور/اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے فوری بعد صوبائی سیاست میں ایک نیا زلزلہ آ گیا ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پارٹی کے 8 اہم ترین رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ اس غیر معمولی پیشرفت نے صوبے کے سیاسی درجہ حرارت کو انتہا پر پہنچا دیا ہے۔

پولیس حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، حفاظتی تحویل میں لیے جانے والے رہنماؤں میں نہ صرف وزیراعلیٰ سہیل آفریدی شامل ہیں بلکہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے ہمراہ پارٹی کی دیگر مرکزی و صوبائی قیادت بھی پولیس کی نگرانی میں ہے۔ پولیس حکام کا موقف ہے کہ یہ اقدامات صوبے میں امن و امان کی نازک صورتحال کو برقرار رکھنے اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد کسی بھی ممکنہ پرتشدد ردعمل کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

سیاسی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبے کے انتظامی سربراہ (وزیراعلیٰ) اور قانون ساز اسمبلی کے کسٹوڈین (اسپیکر) کو بیک وقت تحویل میں لینا پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک انتہائی سنگین اور بڑا واقعہ ہے۔ تحریکِ انصاف کے اندرونی حلقوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام اور صوبائی خودمختاری پر شب خون مارنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ دوسری جانب، مبصرین کا خیال ہے کہ وفاق کی جانب سے کیے جانے والے ان سخت اقدامات کے بعد خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی مزاحمتی حکمتِ عملی کو شدید نقصان پہنچا ہے اور پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔