ایف آئی اے امیگریشن کا تاریخی اقدام: مسافروں کو زبانی آف لوڈ کرنے پر پابندی، 21 سال پرانا قانون تبدیل کر کے نیا ڈیجیٹل اسٹینڈنگ آرڈر نافذ
کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ائیرپورٹس اور دیگر پورٹس پر مسافروں کو بلاجواز ہراساں کرنے اور زبانی احکامات کے تحت فلائٹس سے آف لوڈ کرنے کے روایتی سلسلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے۔ ایف آئی اے امیگریشن نے مسافروں کی سہولت اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ملک بھر کے تمام ائیرپورٹس، سی پورٹس اور ڈرائی پورٹس کے لیے 12 صفحات پر مشتمل ایک قابلِ ستائش اور جامع نیا اسٹینڈنگ آرڈر جاری کر دیا ہے۔
موصولہ دستاویزات کے مطابق، ایف آئی اے نے سال 2005ء سے نافذ العمل پرانے اسٹینڈنگ آرڈر کو فوری طور پر منسوخ کر دیا ہے۔ اس کی جگہ نیا 'اسٹینڈنگ آرڈر نمبر 07/2026' فوری طور پر پورے ملک میں نافذ العمل کر دیا گیا ہے، جس کا وقتاً فوقتاً سیکیورٹی اور عوامی سہولت کے پیشِ نظر جائزہ بھی لیا جاتا رہے گا۔ اس نئے حکم نامے کے نفاذ کے بعد امیگریشن افسران کے جاب ڈسکرپشن اور عمومی ذمہ داریوں سے متعلق ماضی کی تمام تر سابقہ ہدایات اور زبانی احکامات اس حد تک ختم ہو گئے ہیں جہاں وہ اس نئے قانون سے متصادم پائے جائیں گے۔
نئے امیگریشن مینوئل اور دستاویز کے مندرجات سے واضح ہوتا ہے کہ اب کسی بھی مسافر کو محض شک یا زبانی کلامی کارروائی کی بنیاد پر سفر کرنے سے نہیں روکا جا سکے گا۔ نئے فول پروف نظام کے تحت امیگریشن سے متعلق تمام فیصلوں کو باقاعدہ ڈیجیٹل ریکارڈ، تحریری و دستاویزی وجوہات، رسک بیسڈ (Risk-based) جانچ پڑتال اور انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (IBMS) میں مکمل بائیو ڈیٹا ریکارڈنگ سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ نئے ضابطہ اخلاق کے تحت اگر کسی مسافر کو آف لوڈ کیا جائے گا تو متعلقہ امیگریشن افسر کو اس کی ٹھوس دستاویزی وجہ لکھنی ہوگی اور وہ اپنے اس فیصلے کا اعلیٰ حکام کے سامنے جوابدہ ہوگا۔ اس اقدام سے ائیرپورٹس پر بدعنوانی اور مسافروں کی بلاوجہ تذلیل کے راستے مستقل طور پر بند ہو جائیں گے۔