حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پی ٹی آئی صوبائی حکومت اور عمران خان کے لیے اہم رعایتیں حاصل کرنے کا موقع گنوا بیٹھی Home / سیاست /

پی ٹی آئی صوبائی حکومت اور عمران خان کے لیے اہم رعایتیں حاصل کرنے کا موقع گنوا بیٹھی

ایڈیٹر - 12/10/2026
 پی ٹی آئی صوبائی حکومت اور عمران خان کے لیے اہم رعایتیں حاصل کرنے کا موقع گنوا بیٹھی

کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ: تحریکِ انصاف کو بڑا سیاسی دھچکا، مذاکرات کی ناکامی کی اندرونی کہانیاں منظرِ عام پر آگئیں

اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک بڑا اور کاری ضرب لگانے والا سیاسی دھچکا پہنچا ہے۔ سیاسی مبصرین اور پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف اپنی صوبائی حکومت بچانے اور اڈیالہ جیل میں قید اپنے بانی عمران خان کے لیے مقتدر حلقوں سے اہم رعایتیں حاصل کرنے کا ایک سنہرا موقع ہمیشہ کے لیے گنوا بیٹھی ہے۔

پارٹی کے انتہائی معتبر اندرونی ذرائع نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں پسِ پردہ ہونے والے مذاکرات انتہائی فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکے تھے۔ ان مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مقتدر حلقوں کی ملاقات، ان کی ہمشیرہ گان کی فوری رہائی، سابق وزیرِ اعظم سے ملاقاتوں کے ہفتہ وار معمول کی بحالی، اور ڈاکٹروں کی خصوصی سفارش پر انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر کے طبی علاج کی فراہمی جیسے اہم ترین معاملات پر یقین دہانیاں زیرِ بحث آ چکی تھیں۔ تاہم، حتمی معاہدے پر دستخط نہ ہونے اور دونوں جانب سے ڈیڈ لاک برقرار رہنے کے باعث متوقع رعایتوں میں سے کوئی بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکی۔ مذاکرات کی اس حسرت ناک ناکامی کے نتیجے میں پی ٹی آئی نہ صرف وفاق کے ساتھ محاذ آرائی کم کرنے میں ناکام رہی، بلکہ اپنا سب سے مضبوط سیاسی گڑھ اور اکلوتا صوبہ بھی اپنے ہاتھوں سے گنوا بیٹھی۔

ذرائع کے مطابق، موجودہ بحران اور مذاکرات کو سبوتاژ کرنے میں دو اہم شخصیات، محمود خان اچکزئی اور سہیل آفریدی کا کردار کلیدی رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ تحریکِ انصاف کی جانب سے گرینڈ الائنس کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے مارچ ختم کرنے کے عوض عمران خان سے فوری ملاقات پر اصرار کیا، جسے وفاقی حکومت اور سکیورٹی اداروں نے پیشگی شرط ماننے سے انکار کر دیا۔ اگرچہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی تحریکِ انصاف کا بنیادی مطالبہ تھا، لیکن اس ملاقات کو تصفیے کے لیے پہلی شرط قرار دینے کی ضد نے صلح کی کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا۔ دوسری جانب، سہیل آفریدی کے انتہائی سخت اور محاذ آرائی پر مبنی موقف نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ ان کی جانب سے وفاق کی انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر شدید تنقید اور بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب مذاکرات کسی حل کی طرف بڑھ رہے تھے۔ واضح رہے کہ انسدادِ دہشت گردی پر وفاق اور صوبے کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چل رہا تھا، جہاں وفاقی اداروں کا الزام تھا کہ کے پی حکومت عسکریت پسندی کے خلاف تعاون نہیں کر رہی، جبکہ سہیل آفریدی اسے صوبائی خودمختاری میں مداخلت قرار دے کر مزاحمت کر رہے تھے۔

ایک اعلیٰ سیاسی ذریعے نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر پی ٹی آئی قیادت اس نازک موڑ پر سیاسی تدبر اور لچک کا مظاہرہ کرتی، تو بانی پی ٹی آئی اور ان کے خاندان کو فوری ریلیف مل جاتا اور صوبے پر کنٹرول بھی برقرار رہتا۔ تاہم، اس ہٹ دھرمی کے نتیجے میں صوبے میں گورنر راج نافذ ہو چکا ہے، جس سے پی ٹی آئی اقتدار کے آخری مرکز سے بھی محروم ہو گئی ہے۔ اس سنگین صورتحال نے اب پارٹی کے اندر ہی مذاکرات کی حکمتِ عملی اور قیادت کی اہلیت پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔