پشاور (حسبان نیوز): صدرِ مملکت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی سمری پر دستخط کیے جانے کے فوراً بعد صوبائی دارالحکومت پشاور میں سیاسی و انتظامی ہلچل انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ وفاق کے اس ممکنہ بڑے کریک ڈاؤن اور گرفتاریوں سے بچنے کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اپنی جماعت کی قیادت کو بچانے کے لیے ہنگامی جوابی حکمتِ عملی تیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے تمام اراکینِ اسمبلی اور اہم ترین قائدین کو کسی بھی صورت سکیورٹی اداروں کو گرفتاری نہ دینے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد پی ٹی آئی کی صفوں میں مشاورت کا ہنگامی دور شروع ہوا، جس میں وزیراعلیٰ نے پارٹی کے کلیدی رہنماؤں کو فوری طور پر زیرِ زمین جانے یا صوبے کے محفوظ و دور دراز مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس اسٹریٹجک اقدام کا مقصد وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے متوقع بڑے سیاسی کریک ڈاؤن کو ناکام بنانا اور پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو گرفتاریوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
سیاسی و امن و امان کے ماہرین کے مطابق، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ان خفیہ ہدایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی وفاق کے اس آئینی اقدام کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے ایک طویل اور سخت سیاسی و قانونی مزاحمت کی تیاری کر رہی ہے۔ صوبائی وزرا اور اراکینِ پارلیمنٹ کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے بعد، اب سب کی نظریں پشاور کے وزیراعلیٰ ہاؤس اور وفاقی اداروں کے اگلے ممکنہ انتظامی اقدامات پر ٹک گئی ہیں، جس سے صوبے میں تصادم کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔