اسلام آباد (حسبان نیوز رپورٹ): وفاق اور خیبرپختونخوا کے مابین جاری آئینی جنگ اپنے حتمی اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ وفاقی کابینہ کی جانب سے آئین کے آرٹیکلز کے تحت منظوری دیے جانے کے فوراً بعد، صدرِ مملکت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی سمری پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ صدر کے دستخط کے ساتھ ہی صوبے میں ایمرجنسی اور وفاقی کنٹرول کا نفاذ باضابطہ طور پر عمل میں آ گیا ہے، جس نے ملک کے سیاسی درجہ حرارت کو سرفہرست پہنچا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس سے ارسال کی جانے والی ہنگامی آئینی سمری ایوانِ صدر پہنچتے ہی اس پر تفصیلی قانونی مشاورت کی گئی، جس کے بعد صدر نے ملکی مفاد اور امن و امان کی سنگین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری دستخط کیے۔ اس دستخطی توثیق کے بعد اب خیبرپختونخوا کی انتظامی باگ ڈور اور تمام اہم سکیورٹی و انتظامی فیصلے براہِ راست وفاق اور گورنر ہاؤس پشاور منتقل ہو جائیں گے، جبکہ صوبائی اسمبلی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اختیارات شدید متاثر ہونے کا امکان ہے۔
سیاسی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدرِ مملکت کی جانب سے اس سمری پر دستخط کیے جانا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔ اب جبکہ ایمرجنسی نافذ العمل ہو چکی ہے، پشاور اور اسلام آباد سمیت پورے ملک میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ جے یو آئی، پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس حتمی اقدام پر شدید ردعمل آنے کی توقع ہے، جبکہ قانون دانوں کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی اس صدارتی فیصلے کو فوری طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرے گی۔