پشاور (حسبان نیوز رپورٹ): وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے مابین جاری سیاسی جنگ اب باقاعدہ ایک کھلی اور خطرناک آئینی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے گرفتاری اور گورنر راج کی دھمکیوں پر سخت ترین ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وفاق کو دوٹوک اور آخری انتباہ جاری کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس تحریک انصاف کے آئینی و قانونی مطالبات تسلیم کرنے کے علاوہ اب کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وفاق کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی حکومت نے آئینی طور پر ایمرجنسی یا گورنر راج کا باضابطہ اعلان کیے بغیر صوبے کے خلاف کوئی بھی درپردہ یا غیر قانونی حرکت کی، تو اسے وفاق کی جانب سے 'آئینی بغاوت' تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے وفاقی حکمرانوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ "اگر جگر اور گردہ ہے تو سامنے آئیں اور گورنر راج کا باضابطہ اعلان کریں۔" وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی اپنے مطالبات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ان کا لانگ مارچ تمام مطالبات کی منظوری تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔
صوبائی دارالحکومت میں اہم ترین سیاسی موڑ پر گفتگو کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ صوبے اور جماعت میں پالیسی صرف اور صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی چلے گی اور کسی کو بھی اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے وفاق کو سب سے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر صوبے پر زبردستی گورنر راج یا ایمرجنسی مسلط کی گئی، تو عوام کا ردعمل اس قدر شدید ہوگا کہ لوگ ترکی میں ہونے والی تاریخی عوامی مزاحمت کی مثالیں دینا بھی بھول جائیں گے۔ وزیراعلیٰ کے اس بیان نے ملک کے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے اور وفاق و صوبے میں تصادم کا خطرہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔