ورلڈ اکنامک فورم کی پاکستان میں 16 نئے صوبوں یا 25 انتظامی اکائیوں کی مشروط حمایت، گورننس متبادل تجویز
اسلام آباد: عالمی اقتصادی ادارے 'ورلڈ اکنامک فورم' (WEF) نے پاکستان کے موجودہ انتظامی اور صوبائی ڈھانچے کو عوامی مسائل کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے ملک میں 16 نئے صوبوں یا 23 سے 25 انتظامی اکائیوں کی تشکیل کی مشروط حمایت کر دی ہے۔ فورم کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ انتظامی یونٹس کی تعداد میں اضافے سے حکومت براہِ راست عوام کے قریب آسکتی ہے، جس سے سرکاری خدمات کی فراہمی اور ملک بھر میں مالی و سیاسی جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ اس تجویز کا مقصد محض انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ اصل ہدف بہتر حکمرانی، معیاری عوامی خدمات کی ترسیل اور مضبوط تر احتسابی عمل ہونا چاہیے۔ فورم نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ہی انہیں مناسب اور یقینی مالی وسائل، ٹیکس وصولی کے خود مختار اختیارات، مضبوط انتظامی صلاحیت اور واضح آئینی ذمہ داریاں سونپنا ناگزیر ہوگا، ورنہ یہ تجربہ مزید انتظامی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے موجودہ تنظیمی ڈھانچے کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملک کے صرف چار صوبوں کی اوسط آبادی تقریباً 6 کروڑ بنتی ہے، جو کہ دنیا کے کئی ممالک کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ اس حد سے بڑھی ہوئی آبادی کے باعث صوبائی دارالحکومت دور دراز کے اضلاع سے سینکڑوں میل کے فاصلے پر ہیں، جس کی وجہ سے ایک ہی صوبائی حکومت کو یکسر مختلف آبادیوں اور متضاد انتظامی ضروریات والے علاقوں کو سنبھالنا پڑتا ہے۔ فورم کے مطابق، اسی انتظامی دباؤ کا اثر براہِ راست کمزور سرکاری خدمات اور محدود مالی صلاحیت کی صورت میں نکل رہا ہے، جس کی بدترین مثال یہ ہے کہ ملک میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 28 فیصد بچے تاحال اسکولوں سے باہر ہیں۔