عمرہ کے نام پر انسانی اسمگلنگ کا بڑا انکشاف: 2 لاکھ 12 ہزار سے زائد پاکستانی زائرین لاپتہ، وطن واپس نہ پہنچ سکے
لاہور / اسلام آباد: پاکستان سے عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے والے زائرین کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ کا ایک انتہائی ہولناک اور منظم نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، رواں سال پاکستان کے مختلف بین الاقوامی ہوائی اڈوں سے مقدس سفر پر روانہ ہونے والے 2 لاکھ 12 ہزار سے زائد پاکستانی زائرین تاحال وطن واپس نہیں پہنچ سکے۔ اس غیر معمولی تعداد میں مسافروں کے غائب ہونے کے بعد وفاقی تحقیقاتی اداروں اور وزارتِ داخلہ میں خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔
وزارتِ داخلہ کے معتبر ذرائع سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال تقریباً 30 لاکھ پاکستانی شہریوں نے عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کا سفر کیا تھا۔ ان میں سے 28 لاکھ کے قریب زائرین فریضہ ادا کرنے کے بعد بحفاظت وطن واپس لوٹ چکے ہیں، تاہم 2 لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد کی واپسی کا کوئی ریکارڈ امیگریشن ڈیٹا میں موجود نہیں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ مسافروں کو 90 روزہ قانونی عمرہ ویزوں پر روانہ کیا گیا تھا، جن میں سے ایک کثیر تعداد کے ویزوں کی معیاد ختم ہو چکی ہے اور وہ اب غیر قانونی طور پر وہاں مقیم ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، انسانی اسمگلرز اور سفری ایجنٹوں کے متعدد گروہ عمرہ ویزوں کا سہارا لے کر شہریوں کو روزگار کا جھانسا دیتے ہیں اور سعودی عرب لے جا کر غیر قانونی طور پر چھوڑ دیتے ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اس انکشاف کے بعد ملک بھر کے تمام بڑے ایئرپورٹس پر عمرہ مسافروں کی سیکنڈری پروفائلنگ اور سخت جانچ پڑتال کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے دھندے میں ملوث ٹریول ایجنٹس اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کی عالمی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کو روکا جا سکے۔