اسلام آباد: اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کو مثالی طبی سہولیات کی فراہمی، صحت کے معاملے پر کوئی راز داری نہیں برتی جا رہی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں نظر بند بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو بہترین اور بین الاقوامی معیار کا علاج معالجہ فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے ان کی فیملی بھی مکمل طور پر مطمئن ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کوئی بھی بات چھپائی نہیں جا رہی اور ان کے معائنے کے لیے ایک ایسے ماہر ڈاکٹر کی خدمات حاصل کی گئیں جو برطانیہ اور پاکستان دونوں جگہ پریکٹس کرتے ہیں۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ علاج معالجے کے بعد بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر بالکل نارمل اور آئیڈیل پوزیشن پر ہے اور جیل میں ان کی صحت کا جتنا دھیان رکھا جا رہا ہے، شاید کوئی اپنے گھر پر بھی ایسا خیال نہ رکھ پائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ خود بانی پی ٹی آئی نے اپنی بہن سے گفتگو کے دوران ہسپتال منتقل ہونے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ "کیا روز روز ہسپتال ہسپتال لگایا ہوا ہے، میں ہسپتال نہیں جانا چاہتا۔" وزیر مملکت نے اصرار کیا کہ بانی پی ٹی آئی جسمانی طور پر بالکل فٹ ہیں اور ہسپتال داخلے کا کوئی طبی جواز موجود نہیں ہے۔
اپوزیشن جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف کے پاس اب صرف صحت، علاج اور بچوں سے بات کرانے کا سیاسی کارڈ ہی باقی رہ گیا ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ پی ٹی آئی جن اضلاع میں احتجاج اور لانگ مارچ کر رہی ہے، وہاں عام شہریوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر پی ٹی آئی کو ہر ممکن سیاسی اسپیس دی گئی اور دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر تعاون مانگا گیا، تاہم پی ٹی آئی کا وفد حکومتی اخلاص کے سامنے بے بس نظر آیا اور مذاکراتی کمرے سے نکلتے ہوئے آنکھیں ملانے کے قابل بھی نہیں تھا۔