حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
اسرائیل جانے والے فلائی دبئی کے طیارے کو گرانے کی کوشش کرنے والے شریک پائلٹ کو سزائے موت دینے کا فیصلہ. Home / بین الاقوامی /

اسرائیل جانے والے فلائی دبئی کے طیارے کو گرانے کی کوشش کرنے والے شریک پائلٹ کو سزائے موت دینے کا فیصلہ.

ایڈیٹر - 06/10/2026
اسرائیل جانے والے فلائی دبئی کے طیارے کو گرانے کی کوشش کرنے والے شریک پائلٹ کو سزائے موت دینے کا فیصلہ.

ابوظہبی / دبئی: متحدہ عرب امارات (UAE) میں بین الاقوامی ہوابازی کی تاریخ کے ایک انتہائی غیر معمولی، تشویشناک اور دہشت گردانہ واقعے پر بڑی عدالتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اماراتی حکام اور اٹارنی جنرل نے دبئی سے اسرائیل جانے والی مسافر پرواز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی خوفناک کوشش کرنے والے فلائی دبئی کے شریک پائلٹ (کواپائلٹ) ہمام الحمامی کو عبرت ناک سزائے موت دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ 

عالمی میڈیا اور اماراتی سینیئر حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، فلائی دبئی کی فلائٹ 1073 (جو بوئنگ 737 میکس طیارے پر مشتمل تھی اور دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی) میں فضا کے بیچوں بیچ عمانی شہریت رکھنے والے شریک پائلٹ ہمام الحمامی نے شدید انتہا پسندی سے متاثر ہو کر کاک پٹ میں موجود کریش کلہاڑی (Crash Axe) سے بھارتی نژاد کپتان سمت مچھار پر اچانک جان لیوا حملہ کر دیا تھا۔ حملے کے بعد ملزم نے جہاز کے کنٹرولز سنبھال کر 182 مسافروں سے بھرے طیارے کو سیکنڈوں میں تقریباً 17 ہزار فٹ نیچے کی طرف گرا دیا تاکہ اسے اسرائیل میں لے جا کر گرایا جا سکے۔ تاہم، کپتان نے انتہائی بہادری سے کاک پٹ کا دروازہ کھولا، جس کے بعد عملے اور مسافروں نے فوری اندر داخل ہو کر مفرور سوچ کے حامل کواپائلٹ کو دبوچ لیا اور طیارے کی سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کروائی گئی۔ 

اماراتی اٹارنی جنرل نے تحقیقات کے بعد اس مجرمانہ کارروائی کو باقاعدہ طور پر ایک "دہشت گردانہ حملہ" قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ طیارے میں سوار تمام معصوم افراد کی جانیں خطرے میں ڈالنے کے سنگین ترین جرم میں ملزم ہمام الحمامی کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی اور اسے سخت ترین قانونی سزا (سزائے موت) دی جائے گی۔ 

اس واقعے کی بین الاقوامی حساسیت کے پیشِ نظر، اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے تصدیق کی کہ ملزم شدید انتہا پسندانہ نظریات کی طرف راغب ہو چکا تھا۔ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کے باثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ اہلکار بھی اس بین الاقوامی نیٹ ورک اور محرکات کی مکمل تحقیقات کے لیے اب متحدہ عرب امارات پہنچ چکے ہیں تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ آیا اس حملے کے پیچھے کسی عالمی دہشت گرد گروپ کا ہاتھ تھا یا ملزم نے اکیلے ہی یہ خوفناک سازش رچی تھی۔