پشاور / اسلام آباد: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں جاری سیاسی کھینچا تانی کے دوران ایک انتہائی دوٹوک اور اہم آئینی بیان داغ دیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے معروف پروگرام "جیو پاکستان" میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف جب بھی صوبے کی سیکیورٹی کو مدِنظر رکھتے ہوئے گورنر راج یا ایمرجنسی کا فیصلہ کریں گے، صوبہ اس کو فی الفور لاگو کرے گا اور گورنر ہاؤس اپنا پورا آئینی کردار ادا کرے گا .
گورنر کے پی نے پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو عناصر پاکستان کے آئین و قانون کو تسلیم نہیں کرتے، وہ اب وفاق سے ڈائیلاگ کے مطالبات کر رہے ہیں . انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب بھی عالمی سطح پر پاکستان کا کوئی مثبت اور سافٹ امیج ابھر کر سامنے آتا ہے، یہ جماعت دانستہ طور پر احتجاج کی سیاست کر کے ملک دشمنی کا ثبوت دیتی ہے۔ پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاجی مظاہروں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس جماعت میں اتنی سکت اور صلاحیت ہی نہیں کہ ان کا لانگ مارچ اٹک کی سرحد سے آگے بڑھ سکے. انہوں نے سوال اٹھایا کہ 20 لاکھ کے مجمعے کے دعوے کرنے والوں کے پاس اب لوگ ہی موجود نہیں ہیں، پی ٹی آئی کوئی سیاسی جماعت نہیں رہی بلکہ یہ محض چار مختلف فرنچائزز کا مجموعہ بن چکی ہے۔
صوبے کی انتظامی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی نااہلی کی وجہ سے پورے خیبر پختونخوا کا ستیاناس کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خود پی ٹی آئی کے سابق وزیراعلیٰ نے اعتراف کیا تھا کہ وہ بھی بھتہ دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے موجودہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پر کمزور گرفت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کا صوبے پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور صوبائی حکومت مفرور مراد سعید کے اشاروں پر ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلائی جا رہی ہے . انہوں نے اعادہ کیا کہ صوبے کو اس تباہی سے بچانے کے لیے وفاق کی جانب سے کسی بھی بڑے فیصلے کی صورت میں آئینی نفاذ کو یقینی بنایا جائے گا