اسلام آباد / صوبائی دارالحکومت: حکومت نے ایک بڑے انتظامی فیصلے کے تحت عارضی طور پر خدمات انجام دینے والے متعدد لا افسران کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں جاری ہونے والے باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ان تمام لا افسران کو ماضی میں مختلف اوقات کے دوران محض 3 مہینے کی عارضی مدت کے لیے نوکری پر رکھا گیا تھا، تاہم ان کی مدتِ ملازمت میں وقتاً فوقتاً عارضی توسیع کی جاتی رہی۔
اعلامیے میں دی گئی تفصیلی معلومات کے مطابق، جن لا افسران کو اب فارغ کیا گیا ہے ان کی تعیناتیاں یکم اپریل 2023 سے 3 ستمبر 2026 کے درمیانی عرصے میں کی گئی تھیں۔ حکومت کی جانب سے اب ان کی ملازمتوں میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے بعد ان کی خدمات فوری طور پر ختم ہو گئی ہیں۔
دستاویزات سے یہ سنسنی خیز انکشاف بھی ہوا ہے کہ ان فارغ کیے گئے لا افسران میں قانون کے شعبے سے وابستہ روایتی ماہرین کے بجائے پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ریٹائرڈ افسران شامل تھے۔ ملازمت سے سبکدوش کیے جانے والے ان اہلکاروں میں پولیس کے سابق ایس پیز (SPs)، ڈی ایس پیز (DSPs) اور اے ایس آئیز (ASIs) شامل تھے، جنہیں عارضی بنیادوں پر لا افسر کے اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
انتظامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اب عارضی اور کنٹریکٹ ملازمتوں کے بجائے مستقل بنیادوں پر میرٹ کے مطابق نئی بھرتیاں کرنے یا محکمے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔