کراچی: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے کا باقاعدہ اشارہ دے دیا ہے۔ کراچی میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے 7 اکتوبر کے بعد اگلے مرحلے کا اعلان کرنے جا رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی جانب سے حالیہ پیٹرول ریلیف پیکج کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ پیکج عوام پر کوئی احسان نہیں ہے بلکہ حکومت کو جماعت اسلامی اور عوام کے شدید دباؤ (پریشر) میں آ کر یہ فیصلہ کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 40 لاکھ سے زائد موٹر سائیکلیں موجود ہیں، لیکن حکومت کا یہ مبہم پیکج تمام مستحقین تک نہیں پہنچ رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس دیرینہ معاشی مسئلے کا واحد اور مستقل حل پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے دیگر سیاسی جماعتوں کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم کے اس اہم ترین عوامی مسئلے پر سب خاموش کیوں ہیں؟ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک میں اشرافیہ اور غریبوں کے لیے الگ الگ نظام بنانے کے چکر اب نہیں چلیں گے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران امیرِ جماعت اسلامی نے فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت اور بربریت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی فلسطینیوں کے حقوق اور ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف مسلسل آواز بلند کرتی رہے گی۔ حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ غزا میں معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے جس میں امریکا براہِ راست سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام اس وقت پوری مسلم امت کی بقا کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، اور پاکستان کے عوام ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور کسی ظالم کا ساتھ نہیں دیں گے۔