اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں اہم ترین احکامات جاری کرتے ہوئے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کو آئندہ سماعت پر ہر صورت عدالت کے روبرو پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کے دوران متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کو آئندہ پیشی پر جسمانی طور پر یا پھر ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت کے سامنے لازمی پیش کیا جائے۔ عدالتی احکامات کے بعد بانی پی ٹی آئی کی پیشی کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات پر مشاورت شروع کر دی گئی ہے۔
عدالت نے مقدمے میں روپوش پاکستان تحریکِ انصاف کے سرکردہ رہنماؤں کے خلاف بھی سخت ترین قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اے ٹی سی نے سابق وفاقی وزراء فرخ حبیب، حماد اظہر، مراد سعید اور سینیٹر شبلی فراز کو باقاعدہ طور پر اشتہاری قرار دے دیا ہے، جبکہ عدالت نے ان تمام مفرور رہنماؤں کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ اس کے علاوہ، عدالت نے سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم اور بیرسٹر حسان نیازی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 5 نومبر تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اور دیگر کارکناں کے خلاف یہ مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں درج ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان پر جوڈیشل کمپلیکس کی جانب غیر قانونی مارچ کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، کارِ سرکار میں مداخلت اور وہاں پیش آنے والے پرتشدد واقعات سے متعلق دہشت گردی سمیت مختلف سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔