اسلام آباد: پاکستان کی معاشی تاریخ میں سرکاری قرضوں کے حوالے سے اب تک کا سب سے بڑا اور تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ وفاقی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ دستاویزی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دس سال کے دوران ملک کے مجموعی سرکاری قرضوں میں 340 فیصد کا تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے معاشی ماہرین اور پالیسی سازوں کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان کے سرکاری قرضوں میں 67 ہزار ارب روپے کا ریکارڈ اضافہ ہوا، جس کے بعد کل ملکی و غیر ملکی قرضوں کا مجموعی حجم 86 ہزار 700 ارب روپے کی فلک بوس سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اس کے برعکس، جون 2016 تک ملک پر مجموعی سرکاری قرضہ صرف 19 ہزار 700 ارب روپے تھا۔
وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار کی تفصیلی جانچ پڑتال سے معلوم ہوتا ہے کہ جون 2026 تک مجموعی قرضے (86,700 ارب روپے) میں سے مقامی سرکاری قرضہ 59 ہزار 400 ارب روپے جبکہ غیر ملکی قرضہ 27 ہزار 300 ارب روپے کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اگر دس سال قبل یعنی جون 2016 کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو اس وقت مقامی قرضہ 13 ہزار 600 ارب روپے اور غیر ملکی قرضہ محض 6 ہزار 100 ارب روپے تھا۔
رپورٹ میں سال بہ سال قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا احاطہ بھی کیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق جون 2017 تک مجموعی سرکاری قرضہ 21 ہزار 400 ارب روپے تھا، جو جون 2018 تک بڑھ کر 24 ہزار 900 ارب روپے ہو گیا۔ معاشی عدم استحکام کے باعث اگست 2018 کے بعد اس میں تیزی دیکھی گئی، اور جون 2019 تک یہ حجم 32 ہزار 700 ارب روپے تک جا پہنچا۔ جون 2020 میں سرکاری قرضہ 36 ہزار 400 ارب روپے اور جون 2021 کی مدت کے اختتام پر یہ مزید بڑھ کر 39 ہزار 900 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد کے سالوں میں اس رفتار میں مزید ہولناک تیزی آئی۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ قرضوں میں یہ بے تحاشا اضافہ ملکی کرنسی کی قدر میں کمی، بجٹ خسارے اور سود کی ادائیگیوں کے باعث ہوا، جو پائیدار معاشی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔