حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
اب اپوزیشن سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی“، وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی پریس کانفرنس Home / سیاست /

اب اپوزیشن سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی“، وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی پریس کانفرنس

ایڈیٹر - 04/10/2026
 اب اپوزیشن سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی“، وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی پریس کانفرنس

حکومت کا اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا باب ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا اعلان؛ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی ہر حال میں تعمیل ہو گی، کسی بھی نقصان کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد ہو گی: محسن نقوی

لاہور (حسبان نیوز): وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں ایک ہنگامی اور اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور اب اپوزیشن کے ساتھ کسی بھی سطح پر دوبارہ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے ۔ وزیرِ داخلہ نے مذاکرات کی ناکامی کی اندرونی کہانی سے پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ اپوزیشن وفد نے انتہائی شاندار اور سنجیدہ طریقے سے مذاکراتی عمل میں حصہ لیا تھا اور دونوں فریقین ایک پرامن سیاسی حل نکالنے کے قریب پہنچ چکے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین کے مابین زیادہ سے زیادہ ممکنہ نکات پر اتفاقِ رائے ہو چکا تھا، معاہدہ مکمل طور پر تیار تھا، اور وہ خود اس فائنل ڈرافٹ کی کاپی لے کر صدرِ مملکت کے پاس گئے تھے جبکہ وزیرِ اعظم کو بھی اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جا چکی تھی ۔

محسن نقوی نے انکشاف کیا کہ مذاکراتی عمل کے دوران ایک دو چیزوں پر معمولی اختلاف کے باوجود 99 فیصد معاملات مکمل طے پا چکے تھے۔ تاہم، صدرِ مملکت سے ملاقات کے بعد جب وہ واپس پہنچے تو ڈرافٹ میں متعدد غیر متوقع تبدیلیاں بتائی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکراتی عمل کے دوران 4 بار ڈرافٹ تیار کیا گیا اور 4 بار ہی اس میں تبدیلیاں کی گئیں ۔ وفاقی وزیرِ داخلہ نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈرافٹ فائنل ہونے کے بعد وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اسے ماننے سے صاف انکار کر دیا اور پورے عمل کو ویٹو کر کے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر وفاق کو پہلے سے یہ معلوم ہوتا کہ کے پی حکومت اس سنجیدہ عمل کو ویٹو کر دے گی تو وہ مذاکرات کی میز پر ہی نہ بیٹھتے ۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ جب غیر سنجیدہ اور ناسمجھ لوگوں کو صوبے کی اعلیٰ ترین سیٹوں پر بٹھایا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست نقصان پورے ملک کو اٹھانا پڑتا ہے ۔

قومی سلامتی اور امن و امان کے حوالے سے وفاقی حکومت کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ریاست کسی بھی صورت ملک میں 9 مئی جیسا سانحہ دوبارہ رونما نہیں ہونے دے گی، چاہے مظاہرین کسی بھی تیاری یا صورت میں کیوں نہ آئیں ]۔ انہوں نے کہا کہ وفاق ہر حال میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کو بحال کروائے گا اور اگر اس احتجاج یا پیش قدمی کے نتیجے میں ملکی املاک یا امن و امان کا کوئی بھی نقصان ہوتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری صرف اور صرف وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی پر عائد ہوگی ۔ وزیرِ داخلہ نے مزید بتایا کہ انہوں نے گزشتہ روز ہونے والی میٹنگ میں بھی اپوزیشن کے وفد پر واضح کر دیا تھا کہ پرامن احتجاج سب کا حق ہے، لیکن اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی، اور احتجاج کی آڑ میں قانون ہاتھ میں لینے والے ہر ورکر اور رہنما کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی