وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے وفاق کو بھیجا گیا 7 نکاتی مذاکراتی ڈرافٹ عوام کے سامنے رکھ دیا؛ عمران خان کے طبی حقوق، سیاسی استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے وفاق سے تحریری یقین دہانی کا مطالبہ
پشاور (حسبان نیوز): وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے ایک اہم سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وفاقی حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کو بھیجے گئے اپنے 7 نکاتی ڈرافٹ کے متن کو پبلک کر دیا ہے۔ اپنے بیان میں وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ یہ ڈرافٹ اپنی قوم کے سامنے رکھ رہے ہیں اور پوری قوم کو علم ہونا چاہیے کہ ان میں سے ایک بھی مطالبہ غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں ہے۔ انہوں نے وفاق پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے اور ریاست پر قابض لوگ صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ یہ مطالبات ہمارے تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ ڈرافٹ میں ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، اور جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے باہمی مشاورت کے ذریعے تمام قومی امور حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
ڈرافٹ کے مطابق، پہلے اہم نکتے میں وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ دو ماہ کے اندر زیرِ التوا سیاسی و آئینی امور پر مؤثر پیش رفت کی جا سکے۔ دوسرے نکتے میں حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندگان پر مشتمل مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی شرط رکھی گئی ہے جو ایک ماہ میں سفارشات تیار کرے اور جمہوریت، عدالت، سیاست سمیت صحافت کی مکمل آزادی کو یقینی بنائے۔ تیسرے اور چوتھے نکات میں جیل مینول کے تحت بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بالخصوص ذاتی ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق علاج معالجے اور اہلِ خانہ، وکلاء اور رفقاء سے باقاعدہ ملاقاتوں کا حق فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ڈرافٹ کے پانچویں نکتے میں عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین اور معمر قیدیوں کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر دس دن کے اندر غور شروع یا مکمل کرنے اور بزرگ رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت سیاسی اسیر خواتین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جلد رہا کرنے کا ذکر ہے۔ چھٹے نکتے میں خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجاز نمائندگان کو 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے اور مشترکہ جامع حکمتِ عملی مرتب کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ ساتویں اور آخری نکتے میں واضح کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ان تمام طے شدہ اقدامات پر تحریری یقین دہانی کے بعد ہی پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی، تاہم کسی بھی خلاف ورزی یا بلاجواز تعطل کی صورت میں تحریکِ انصاف اپنا پرامن اور آئینی احتجاج کا حق محفوظ رکھے گی۔