حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ملک میں کسی بھی قسم کے سیاسی انتشار یا بدامنی کو قانون کی پوری طاقت سے روکا جائے گا۔رانا ثناء اللہ Home / سیاست /

ملک میں کسی بھی قسم کے سیاسی انتشار یا بدامنی کو قانون کی پوری طاقت سے روکا جائے گا۔رانا ثناء اللہ

ایڈیٹر - 04/10/2026
 ملک میں کسی بھی قسم کے سیاسی انتشار یا بدامنی کو قانون کی پوری طاقت سے روکا جائے گا۔رانا ثناء اللہ

دہشت گردی کے خلاف فورسز کا ساتھ دینے پر کے پی حکومت کے انکار کی وجہ سے معاہدہ نہ ہو سکا، پی ٹی آئی تعاون کا عزم کرے تو دوبارہ مذاکرات ممکن ہیں: رانا ثناء اللہ

اسلام آباد (حسبان نیوز): وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مجوزہ لانگ مارچ اور وفاق کے ساتھ مذاکراتی عمل پر حکومتی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی سیاسی احتجاج یا لانگ مارچ کو کسی صورت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسلام آباد میں سینیئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک کے امن و امان کو ثبوتاژ کرنے والے کسی بھی قسم کے پرتشدد انتشار کو ریاست اور قانون کی پوری طاقت کے ساتھ سختی سے روکا جائے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین فی الحال اگلے دور کے مذاکرات کا کوئی وقت مقرر نہیں ہوا ہے، کیونکہ دونوں وفود کے درمیان پہلے دور میں بنیادی قومی سلامتی کے امور پر ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا تھا۔

رانا ثناء اللہ نے مذاکرات کی ناکامی کی اندرونی وجوہات کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جاری سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں وفاق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دینے اور اپنا واضح آئینی کردار ادا کرنے کی یقین دہانی سے مکمل انکاری ہے، اور اسی تزویراتی ہچکچاہٹ کی وجہ سے دونوں فریقین کے درمیان کوئی تحریری یا زبانی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی جیل میں ملاقاتوں، علاج معالجے یا سہولیات سے متعلق باتیں انتہائی چھوٹی اور ثانوی نوعیت کی باتیں تھیں جن پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اصل مسئلہ قومی سلامتی کا ہے، اور اگر پی ٹی آئی کی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو تو وہ کل ہی مذاکرات کی میز پر واپس آ سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جیسے ہی پی ٹی آئی دہشت گردی پر مکمل تعاون کے لیے آمادگی کا اظہار کرے گی، حکومت دوبارہ مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی۔