حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
صوبہ خیبر پختونخوا کو بچانے کے لیے اگر ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے: گورنر فیصل کریم کنڈی Home / سیاست /

صوبہ خیبر پختونخوا کو بچانے کے لیے اگر ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے: گورنر فیصل کریم کنڈی

ایڈیٹر - 04/10/2026
 صوبہ خیبر پختونخوا کو بچانے کے لیے اگر ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے: گورنر فیصل کریم کنڈی

صوبے کے دفاع اور امن و امان کیلئے آئینی اقدامات سے گریز نہیں کیا جائے گا، پی ٹی آئی کے پاس احتجاج کی کوئی پلاننگ نہیں: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

پشاور (حسبان نیوز): گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں امن و امان کی نازک صورتحال کے پیشِ نظر سخت آئینی اقدامات کا اشارہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر صوبے کو انتشار سے بچانے کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی تو اس سے ہرگز گریز نہیں کیا جائے گا۔ نجی ٹی وی چینل 'جیو نیوز' کو دیے گئے ایک خصوصی اور تہلکہ خیز انٹرویو میں گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ جب کسی بھی صوبے کی داخلی یا انتظامی صورتحال غیر معمولی حد تک خراب ہو جاتی ہے تو صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم اور دیگر آئینی ادارے اگر ضروری سمجھیں تو وہاں ایمرجنسی نافذ کرنے کی مکمل آئینی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ انہوں نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج جیسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو وہ اپوزیشن سے نمٹنے کے لیے اکیلے ہی کافی ہیں۔

گورنر خیبر پختونخوا نے تحریکِ انصاف کے جاری احتجاج اور لانگ مارچ کی کال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس کی عوامی مقبولیت پر سوالات اٹھا دیے۔ انہوں نے سیاسی ماحول کا نقشہ کھینچتے ہوئے سوال کیا کہ کیا واقعی صوبے میں کہیں کوئی لانگ مارچ ہو رہا ہے؟ کیا پشاور کی سڑکوں پر کوئی گہما گہمی، کارنر میٹنگز یا احتجاجی بینرز نظر آ رہے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اس نام نہاد لانگ مارچ میں قوم نے صرف پی ٹی آئی رہنماؤں کی خود ساختہ گرفتاریاں اور روپوشیاں ہی دیکھی ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ دیگر سیاستدانوں کی طرح صرف زبانی بھڑکیں مارنے پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ جب سیاسی میدان سج جائے گا تو وہ خود مخالفین کی حکمتِ عملی کا جائزہ لے لیں گے۔

اپنے انٹرویو کے دوران گورنر نے صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی سیاسی پلاننگ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیلنج کیا کہ یہ صوابی کراس کر کے تو دکھائیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے پاس احتجاج کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کوئی ٹھوس پلاننگ یا واضح ایجنڈا موجود نہیں ہے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح مہم جوئی کو طول دے کر مہینہ ڈیڑھ مہینہ گزار دیا جائے تاکہ انہیں صوابی نہ آنا پڑے اور وہ عوامی دباؤ سے بچ سکیں۔ فیصل کریم کنڈی کے اس بیان کو خطے کی بدلتی ہوئی تزویراتی اور سیاسی صورتحال میں وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا واضح مہر سمجھا جا رہا ہے۔