حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
حکومت سے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد پی ٹی آئی کی سیاسی و کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ Home / سیاست /

حکومت سے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد پی ٹی آئی کی سیاسی و کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

ایڈیٹر - 03/10/2026
حکومت سے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد پی ٹی آئی کی سیاسی و کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

حکومت سے مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی؛ مثبت پیش رفت پر لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کرنے پر غور، ایمرجنسی کی صورت میں استعفوں کی دھمکی

اسلام آباد (حسبان نیوز): حکومتِ وقت اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مابین مذاکرات کے پہلے دور کے بعد پی ٹی آئی کی سیاسی و کور کمیٹی کے اہم اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، اجلاس کے دوران بیرسٹر گوہر علی خان نے شرکا کو حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کی تفصیلی پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ پارٹی کے سینیئر رہنما سلمان اکرم راجا نے مقتدر حلقوں کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی لگانے کے مبینہ مکمل پلان کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کیا۔ اجلاس میں شریک ارکان کی اکثریت کی رائے تھی کہ بحران کے سیاسی حل کے لیے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے، تاہم شرکا نے واضح کیا کہ اگر حکومت مثبت پیش رفت کرتی ہے تو احتجاج یا لانگ مارچ ختم کرنے کے بجائے صرف اس کی تاریخ آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ تحریکِ انصاف کے اراکین نے موجودہ سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے تجویز دی کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجا ناصر عباس کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات کروائی جائے، جس سے کسی ممکنہ حل کی راہ نکل سکتی ہے۔ بعض ارکان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ملاقات میں پی ٹی آئی کی اپنی قیادت کو بھی لازمی شامل ہونا چاہیے۔ اجلاس میں تزویراتی طور پر فیصلہ کیا گیا کہ مذاکرات کے عمل کے دوران پارٹی کا کوئی بھی رہنما میڈیا پر کسی قسم کا بیان نہیں دے گا، تاہم ارکان نے رانا ثنا اللہ اور شیری رحمان کی جانب سے مذاکراتی عمل پر میڈیا بیانات دینے کو غیر سنجیدہ اقدام قرار دیتے ہوئے اس پر کڑی تنقید کی۔

کور کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے مذاکرات کے دوران دہشت گردی کی صورتحال پر دی گئی بریفنگ اور خیبر پختونخوا حکومت کے بارے میں ان کے حالیہ بیانات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فورم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان ورکنگ ریلیشن اور روابط کا قائم ہونا ناگزیر ہے۔ ذرائع کے مطابق، اجلاس میں انتہائی سخت ترین سیاسی فیصلے بھی زیرِ غور آئے، جہاں بعض ارکان نے دوٹوک رائے دی کہ اگر وفاق کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے تو پی ٹی آئی قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے اپنے تمام استعفے فی الفور اسپیکرز کو جمع کروا دے گی۔