پنشنرز کی بڑی سہولت؛ محض بائیومیٹرک تصدیق نہ ہونے یا لائف سرٹیفکیٹ جمع نہ کرانے پر اکاؤنٹس بلاک یا ڈورمنٹ کرنے پر پابندی، کنٹرولر جنرل آف پاکستان کا 25 سے زائد بینکوں کو مراسلہ
پشاور (حسبان نیوز): وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے پنشنرز کی سہولت کے لیے ایک انتہائی اہم اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے بینک اکاؤنٹس کو ڈورمنٹ (غیر فعال) یا بلاک کرنے کے عمل کو روک دیا ہے۔ کنٹرولر جنرل آف پاکستان نے ملک کے تمام تجارتی اور مائیکروفنانس بینکوں کے سربراہان کو ایک باقاعدہ مراسلہ جاری کیا ہے، جس میں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ محض بائیومیٹرک تصدیق نہ ہونے، لائف سرٹیفکیٹ جمع نہ کرانے یا ایک مخصوص عرصے تک پنشن کی رقم نہ نکلوانے کی بنیاد پر کسی بھی پنشنر کا اکاؤنٹ بلاک یا ڈورمنٹ نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی حکومت کے 'رسپٹ اینڈ پیمنٹ رولز 2025' کے رول 35(2) کی وضاحت کرتے ہوئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ عام بینک اکاؤنٹس کو غیر فعال کرنے کے قوانین پنشن اکاؤنٹس پر لاگو نہیں ہوں گے۔
مراسلے کے مطابق، کنٹرولر جنرل آف پاکستان نے ملک کے 25 سے زائد بینکوں کے چیف ایگزیکٹو افسران (CEOs) سے ایسے تمام پنشن اکاؤنٹس کی تفصیلات 14 روز کے اندر طلب کر لی ہیں جنہیں غیر فعال، غیر متحرک یا بلاک کیا گیا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے یہ اقدامات اس لیے اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ ضعیف العمر اور معذور پنشنرز کو بینکوں کے چکر کاٹنے اور کسی بھی قسم کی تادیبی یا انتظامی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ہی، پنشنرز کی سہولت کے لیے ڈیجیٹل نظام اور موبائل ایپ کے ذریعے لائف سرٹیفکیٹ کی تصدیق کا نظام بھی وضع کیا جا رہا ہے تاکہ شہری گھر بیٹھے آسانی سے اپنی حاضری اور سرٹیفکیٹ کی تجدید کر سکیں اور ان کا پنشن کا عمل بلا رکاوٹ جاری رہے۔